اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 150

اصحاب بدر جلد 2 150 حضرت ابو بکر صدیق بھی تو آپ کو مخاطب ہو کر کہتے کہ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ - حضرت عمر کیونکہ قافلے میں شامل تھے اس لیے اس وقت ان کے امیر تھے تو حضرت عمر یہ کہا کرتے تھے کہ اے امیر ! السلام علیکم۔حضرت اسامہ جواب دیا کرتے تھے کہ غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِین کہ اے امیر المومنین! اللہ تعالیٰ آپ سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔391 لشکر اسامہ کو حضرت ابو بکر کی نصائح بہر حال آگے ذکر ہے کہ سب سے آخر پر لشکر کو خطاب فرماتے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ میں تم کو دس باتوں کی نصیحت کرتا ہوں: تم خیانت نہ کرنا؛ اور مال غنیمت سے چوری نہ کرنا؛ تم بد عہدی نہ کرنا؛ اور مثلہ نہ کرنا یعنی کسی کے ناک کان نہ کاٹنا آنکھیں نہ نکالنا چہرہ نہ بگاڑنا؛ اور کسی چھوٹے بچے کو قتل نہ کرنا اور نہ کسی بوڑھے کو اور نہ ہی کسی عورت کو ؛ اور نہ کھجور کے درخت کو کاٹنا اور نہ اس کو جلانا؛ اور نہ کسی پھل دار درخت کو کاٹنا، نہ تم کسی بکری گائے اور اونٹ کو ذبح کرنا سوائے کھانے کے لیے؛ اور تم کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرو گے جنہوں نے اپنے آپ کو گرجوں میں وقف کر رکھا ہے پس تم انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا یعنی راہب، عیسائی پادری، جتنے ہیں ان کو کچھ نہیں کہنا؟ اور تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو تمہیں مختلف قسم کے کھانے برتنوں میں پیش کریں گے تم ان پر اللہ کا نام لے کر کھانا۔یہ نہیں کہ اگر انہوں نے کھانا پیش کیا تو نہ کھاؤ کہ حرام ہے، بسم اللہ پڑھ کے کھالینا؛ اور تمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو اپنے سر کے بال در میان سے صاف کیے ہوں گے اور چاروں طرف پٹیوں کی مانند بال چھوڑے ہوں گے تو تلوار سے ان کی خبر لینا۔یہ لوگ جو ہیں ان کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔یہ آتا ہے کہ عیسائیوں کا ایک گروہ ایسا تھا جو راہب تو نہیں تھے لیکن مذہبی لیڈر ہوتے تھے اور وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے بھڑکاتے رہتے تھے اور جنگ میں حصہ بھی لیتے تھے۔اس لیے آپ نے یہ تو فرمایا کہ جو راہب ہیں گرجوں کے اندر ہیں ان کو کچھ نہیں کہنا، ان سے نہیں لڑ نا لیکن ایسے لوگ اور ان لوگوں کے پیچھے چلنے والے جو لوگ ہیں ان سے بہر حال جنگ کرنی ہے کیونکہ یہ لوگ جنگ کرنے والے بھی ہیں اور جنگ کے لیے بھڑ کانے والے بھی ہیں۔فرمایا کہ اللہ کے نام سے روانہ ہو جاؤ۔اللہ تمہیں ہر قسم کے زخم سے اور ہر قسم کی بیماری اور طاعون سے محفوظ رکھے۔392 پھر حضرت ابو بکر نے اسامہ سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے جو تمہیں کرنے کا حکم دیا تھا وہ سب 394 کچھ کرنا۔رسول اللہ صلی علی یم کے احکام کی بجا آوری میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرنا۔393 اس کے بعد حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ کو ساتھ لے کر مدینہ تشریف لے آئے۔4 حضرت ابو بکر نے اُسامہ بن زید کے لشکر کو ربیع الاول 11 ہجری کے آخر میں روانہ فرمایا۔5 395