اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 148

باب بدر جلد 2 148 حضرت ابو بکر صدیق 384 کہ جس لشکر کو رسول کریم صلی اللہ تم نے روانہ کرنے کا حکم دیا تھا اسے روک لے ؟ پھر آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! اگر دشمن کی فوجیں مدینہ میں گھس آئیں اور کتے مسلمان عورتوں کی لاشیں گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی علی کرم نے فیصلہ فرمایا تھا۔یہ جرات اور دلیری حضرت ابو بکر میں اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ خدا نے یہ فرمایا کہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ اشدّاء عَلَى الْكُفَّارِ جس طرح بجلی کے ساتھ معمولی تار بھی مل جائے تو اس میں عظیم الشان طاقت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی علی ایم کے تعلق کے نتیجہ میں آپ کے ماننے والے بھی اشد آج علی الكفار کے مصداق بن گئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیش اسامہ کی روانگی کی بابت اپنی تصنیف ستر الخلافہ میں بیان فرماتے ہیں کہ ”ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ صلی علی کم کا وصال ہوا اور آپ کی وفات کی خبر مکہ اور وہاں کے گورنر عتاب بن اسید کو پہنچی تو عقاب چھپ گیا اور مکہ لرز اٹھا اور قریب تھا کہ اس کے باشندے مرتد ہو جاتے اور مزید لکھا ہے کہ عرب مرتد ہو گئے۔”ہر قبیلہ میں سے عوام یا خواص۔اور نفاق ظاہر ہو گیا اور یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی گرد نہیں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کی اپنے نبی کی وفات کی وجہ سے، نیز اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت کی وجہ سے ایسی حالت ہو گئی تھی جیسی بارش والی رات میں بھیڑ بکریوں کی ہوتی ہے اس پر لوگوں نے ابو بکر سے کہا کہ یہ لوگ صرف اسامہ کے لشکر کو ہی مسلمانوں کا لشکر سمجھتے ہیں اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں عربوں نے آپ سے بغاوت کر دی ہے۔پس مناسب نہیں کہ آپ مسلمانوں کی اس جماعت کو اپنے سے الگ کر لیں۔اس پر (حضرت) ابو بکر نے فرمایا: اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر مجھے اس بات کا یقین بھی ہو جائے کہ درندے مجھے اچک لیں گے تب بھی میں رسول اللہ صلی الہی کے کے حکم کے مطابق اسامہ کے لشکر کو ضرور بھیجوں گا۔جو فیصلہ رسول اللہ صل ال ولم نے فرمایا ہے میں اسے منسوخ نہیں کر سکتا۔385 الغرض آپ نے آنحضرت صلی العلیم کے حکم کو کما حقہ قائم رکھا اور نافذ فرمایا اور جو صحابہ حضرت اسامہ کے لشکر میں شامل تھے انہیں واپس لشکر میں شامل ہونے کا ارشاد فرمایا۔آپؐ نے فرمایا کہ : ہر وہ شخص جو پہلے اسامہ کے لشکر میں شامل تھا اور اسے رسول اللہ صلی علی کرم نے اس میں شامل ہونے کا ارشاد فرمایا تھا وہ ہر گز پیچھے نہ رہے اور نہ ہی میں اسے پیچھے رہنے کی اجازت دوں گا۔اسے خواہ پیدل بھی جانا پڑے وہ ضرور ساتھ جائے گا۔تو ایک بھی اس سے پیچھے نہ رہا۔386 بہر حال لشکر ایک بار پھر تیار ہو گیا۔بعض صحابہ نے حالات کی نزاکت کے باعث پھر مشورہ دیا کہ فی الحال اس لشکر کو روک لیا جائے۔ایک روایت کے مطابق حضرت اسامہ نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ حضرت ابو بکر کے پاس جا کر ان سے کہیں کہ وہ لشکر کی روانگی کا حکم منسوخ کر دیں تاکہ ہم مرتدین کے