اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 147

باب بدر جلد 2 147 حضرت ابو بکر صدیق طرف بھیجا گیا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی ایم کی وفات کے دوسرے روز حضرت ابو بکر نے منادی کرادی کہ اسامہ کی مہم پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔اسامہ کے لشکر میں سے کوئی شخص بھی مدینہ میں باقی نہ رہے مگر یہ کہ وہ سب مجرف میں ان کے لشکر سے جاملیں۔آنحضرت صلی الی کمی کی وفات کے بعد تمام عرب میں خواہ کو کئی عام تھا یا خاص تقریباً ہر قبیلہ میں فتنہ ارتداد پھیل چکا تھا اور ان میں نفاق ظاہر ہو گیا تھا اور اس وقت یہود و نصاریٰ نے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا تھا اور نبی صلی علی یکم کی وفات اور مسلمانوں کی کم تعداد اور دشمن کی کثرت کے باعث ان کی حالت بارش والی ریت میں بھیڑ بکریوں کی مانند تھی یعنی اس طرح تھے کہ بالکل بے یارو مددگار تھے اس پر لوگوں نے ابو بکر سے کہا کہ یہ لوگ صرف اسامہ کے لشکر کو ہی مسلمانوں کا لشکر سمجھتے ہیں اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں عربوں نے آپ سے بغاوت کر دی ہے۔پس مناسب نہیں کہ آپ مسلمانوں کی اس جماعت کو اپنے سے الگ کر لیں یعنی اسامہ کے لشکر کو بھیجیں۔اس پر حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے یقین ہو کہ درندے مجھے نوچ کھائیں گے تو کبھی میں اسامہ کے لشکر کے بارے میں رسول اللہ کے جاری فرمودہ فیصلے کو نافذ کر کے رہوں گا۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں اگر رسول اللہ صلی علیم کی ازواج مطہرات کے پاؤں کتے گھسیٹتے پھریں۔میں پھر بھی اس لشکر کو جسے رسول اللہ صلی یکم نے بھیجا ہے واپس نہیں بلاؤں گا اور نہ میں اس جھنڈے کو کھولوں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ ولیم نے باندھا ہے۔383 حضرت مصلح موعود اس بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ ”جب رسول کریم صلی علیہ کی وفات پا گئے تو سارا عرب مرتد ہو گیا اور حضرت عمرؓ اور حضرت علی جیسے بہادر انسان بھی اس فتنہ کو دیکھ کر گھبر اگئے۔رسول کریم صلی الیم نے اپنی وفات کے قریب ایک لشکر رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا اور حضرت اسامہ ھو اس کا افسر مقرر کیا تھا۔یہ لشکر ابھی روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی الیہ کی وفات پاگئے اور آپ کی وفات پر جب عرب مرتد ہو گیا تو صحابہ نے سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہ کا لشکر ابھی رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا گیا تو پیچھے صرف بوڑھے مرد اور بچے اور عور تیں رہ جائیں گی اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں رہے گا۔چنانچہ انہوں نے تجویز کی کہ اکابر صحابہ کا ایک وفد حضرت ابو بکر کی خدمت میں جائے اور ان سے درخواست کرے کہ وہ اس لشکر کو بغاوت کے فرو ہونے تک روک لیں۔چنانچہ حضرت عمر اور دوسرے بڑے بڑے صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ درخواست پیش کی۔حضرت ابو بکر نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے نہایت غصہ سے اس وفد کو یہ جواب دیا کہ : کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم صلی للہ ﷺ کی وفات کے بعد ابو قحافہ کا بٹیا سب سے پہلا کام یہ کرے