اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 134

صحاب بدر جلد 2 134 حضرت ابو بکر صدیق اس نے رسول اللہ صلی علیم کو ہدایت دی اور اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھامے رکھا تو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ہدایت دے گا جیسا کہ اس نے آنحضور صلی لی تم کو ہدایت دی۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملات کو ایک ایسے آدمی کے ہاتھوں میں دے دیا ہے جو تم میں سب سے زیادہ بہتر ہیں جو آنحضرت صلی اللہ نام کے ساتھی ہیں اور ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْهُمَا فِي الْغَارِ کے مصداق ہیں۔یعنی وہ دو میں سے ایک تھا جب وہ دونوں غار میں تھے۔پس اٹھو اور اس کی بیعت کرو۔پس لوگوں نے بیعت سقیفہ کے بعد حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔حضرت ابو بکر صدیق نے بیعت عام والے دن ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لو گو ایقینا میں تم پر والی مقرر کیا گیا ہوں لیکن میں تم میں سے سب سے بہتر نہیں ہوں۔اگر میں اچھا کام کروں تو میرے ساتھ تعاون کرو اور کج روی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔تمہارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک قوی ہے جب تک میں دوسروں سے اس کا حق نہ دلا دوں۔اور تمہارا قوی شخص میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق نہ حاصل کر لوں۔ان شاء اللہ۔جو قوم اللہ تعالیٰ کے رستے میں جہاد کو چھوڑ دیتی ہے اللہ اس کو ذلیل وخوار کر دیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔اگر میں اللہ اور رسول اللہ صلی علیکم کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو اور اگر میں اللہ اور رسول اللہ صلی ایم کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں۔نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ اللہ تم سب پر رحم فرمائے۔الله سة 358 حضرت علی کی بیعت حضرت علی کی حضرت ابو بکر کی بیعت کے بارے میں بھی مختلف باتیں بیان کی جاتی ہیں۔تاریخ طبری میں ہے کہ حبیب بن ابو ثابت سے روایت ہے یہ کہ حضرت علی اپنے گھر میں تھے جب ان کے پاس ایک شخص آیا اور ان سے کہا کہ حضرت ابو بکر بیعت لینے کے لیے تشریف فرما ہیں۔حضرت علی قمیص پہنے ہوئے تھے ، اس حالت میں جلدی سے باہر نکلے کہ نہ ہی اس پر ازار تھا اور نہ ہی کوئی چادر، اس امر کو نا پسند کرتے ہوئے کہ کہیں اس سے دیر نہ ہو جائے یہاں تک کہ آپ نے حضرت ابو بکر کی بیعت کی اور حضرت ابو بکر کے پاس بیٹھ گئے۔پھر آپ نے اپنے کپڑے منگوائے اور وہ کپڑے پہنے۔پھر حضرت ابو بکر کی مجلس میں ہی بیٹھے رہے۔359 حضرت علی کی حضرت ابو بکر کی بیعت کرنے کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی نے چھ ماہ تک بیعت نہیں کی اور حضرت فاطمہ کی وفات کے بعد بیعت کی اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی نے پوری رضا اور غبت کے ساتھ فوراً حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تھی۔حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ مہاجرین و انصار نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تو حضرت ابو بکر منبر پر چڑھے تو انہوں نے لوگوں کی طرف دیکھا تو ان میں حضرت علی کو نہ پایا۔حضرت ابو بکر نے حضرت علی کے بارے میں دریافت فرمایا۔انصار میں سے کچھ لوگ گئے اور حضرت علی کو لے