اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 122

اصحاب بدر جلد 2 122 حضرت ابو بکر صدیق بیماری کے دوران اور آپ کی وفات تک حضرت ابو بکر ہی نماز پڑھاتے رہے۔333 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ا ہم نے اپنی بیماری میں حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔اس لیے وہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔عروہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی علیم نے اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس کی تو آپ صلی علیہ کم باہر مسجد میں تشریف لائے۔کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر آگے کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھارہے ہیں۔جب حضرت ابو بکر نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہے۔اس پر آپ صلی علیہم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر ہی رہیں اور رسول اللہ صلی اللی علم حضرت ابو بکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے۔حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی علیکم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے اور لوگ حضرت ابو بکر کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے۔334 یہ بخاری کی روایت ہے۔صحیح بخاری میں ہی ایک اور روایت اس طرح ہے۔حضرت انس بن مالک انصاری سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر نبی کریم صلی علیکم کی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہو گئی لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے یہاں تک کہ جب پیر کا دن ہوا اور وہ نماز میں صفوں میں تھے تو نبی صلی علیکم نے حجرے کا پردہ اٹھایا۔آپ صلی علیہ کم ہمیں دیکھ رہے تھے اور آپ کھڑے ہوئے تھے۔گویا کہ آپ کا چہرہ مبارک قرآن مجید کا ورق تھا۔پھر آپ صلی اللہ ہم نے خوش ہو کر تبسم فرمایا اور ہمیں خیال ہوا کہ نبی کریم صلی الی یکم کو دیکھنے کی وجہ سے ہم خوشی سے آزمائش میں پڑ جائیں گے۔اتنے میں حضرت ابو بکر اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹے تا وہ صف میں مل جائیں اور وہ سمجھے کہ نبی صلی علیہ کی نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں مگر نبی صلی علیم نے اشارہ فرما کر یہی کہا کہ اپنی نماز پوری کرو اور پردہ ڈال دیا اور آپ اسی دن فوت ہو گئے۔335 حضرت مصلح موعودہؓ پہلی روایت کے مطابق ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بوجہ سخت ضعف کے نماز پڑھانے پر قادر نہ تھے اس لیے آپ نے حضرت ابو بکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔جب حضرت ابو بکڑ نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپ نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لیے نکلے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر کو نماز پڑھانے کا حکم دینے کے بعد جب نماز شروع ہو گئی تو آپ نے مرض میں کچھ خفت محسوس کی۔پس آپ نکلے کہ دو آدمی آپ کو سہارا دے کر لے جارہے تھے۔“ کہتی ہیں کہ ”اور اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ شدت درد کی وجہ سے آپ کے قدم زمین سے چھوتے جاتے تھے۔آپ کو دیکھ کر حضرت ابو بکر نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ آئیں۔اس ارادہ کو معلوم کر کے رسول کریم صلی اللی تم نے ابو بکر کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو۔پھر آپ کو وہاں لایا گیا اور آپ حضرت ابو بکر کے پاس بیٹھ گئے۔اس کے بعد رسول کریم نے نماز پڑھنی شروع کی اور حضرت ابو بکڑ نے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کی اور باقی لوگ حضرت ابو بکر کی نماز کی اتباع کرنے لگے۔336