اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 71
محاب بدر جلد 2 71 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر آپ کے پیچھے سوار تھے اور بنو نجار کا جتھہ آپ کے ارد گرد تھا۔آخر آپ نے حضرت ابو ایوب کے صحن میں ڈیرہ ڈالا۔196 اس کا احوال بیان کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ” قبا میں زائد از دس دن قیام کے بعد جمعہ کے روز آنحضرت صلی للی کم مدینہ کے اندرونی حصہ کی طرف روانہ ہوئے۔انصار و مہاجرین کی ایک بڑی جماعت آپ کے ساتھ تھی۔آپ ایک اونٹنی پر سوار تھے اور حضرت ابو بکر آپ تھے۔یہ قافلہ آہستہ آہستہ شہر کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔راستہ میں ہی نماز جمعہ کا وقت آگیا اور آنحضرت صلی ا یم نے بنو سالم بن عوف کے محلہ میں ٹھہر کر صحابہ کے سامنے خطبہ دیا اور جمعہ کی نماز ادا کی۔مورخین لکھتے ہیں کہ گو اس سے پہلے جمعہ کا آغاز ہو چکا تھا مگر یہ پہلا جمعہ تھا جو آپ نے خود ادا کیا۔اور اس کے بعد سے جمعہ کی نماز کا طریق با قاعدہ جاری ہو گیا۔“ ( تو یہاں سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسجد جو تھی وہ بعد میں بنائی گئی)۔جمعہ سے فارغ ہو کر آپ کا قافلہ پھر آہستہ آہستہ آگے روانہ ہوا۔راستہ میں آپ مسلمانوں کے گھروں کے پاس سے گزرتے تھے تو وہ جوش محبت میں بڑھ بڑھ کر عرض کرتے تھے یارسول اللہ ! یہ ہمارا گھر ، یہ ہمارا مال و جان حاضر ہے اور ہمارے پاس حفاظت کا سامان بھی ہے۔آپ ہمارے پاس تشریف فرما ہوں۔آپ ان کے لئے دعائے خیر فرماتے اور آہستہ آہستہ شہر کی طرف بڑھتے جاتے تھے۔مسلمان عورتوں اور لڑکیوں نے خوشی کے جوش میں اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ چڑھ کر گاناشروع کیا۔طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ مَا دَعَى لِلَّهِ دَاع یعنی آج ہم پر کوہ وداع کی گھاٹیوں سے چودھویں کے چاند نے طلوع کیا ہے۔اس لیے اب ہم پر ہمیشہ کے لئے خدا کا شکر واجب ہو گیا ہے۔مسلمانوں کے بچے مدینہ کی گلی کوچوں میں گاتے پھرتے تھے کہ محمد صلیم آگئے۔خدا کے رسول آگئے۔اور مدینہ کے حبشی غلام آپ کی تشریف آوری کی خوشی میں تلوار کے کرتب دکھاتے پھرتے تھے۔جب آپ شہر کے اندر داخل ہوئے تو ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اس کے پاس قیام فرمائیں اور ہر شخص بڑھ بڑھ کر اپنی خدمت پیش کرتا تھا۔آپ سب کے ساتھ محبت کا کلام فرماتے اور آگے بڑھتے جاتے تھے حتی کہ آپ کی ناقہ بنو ئجار کے محلہ میں پہنچی۔اس جگہ بنو نجار کے لوگ ہتھیاروں سے سجے ہوئے صف بند ہو کر آپ کے استقبال کے لئے کھڑے تھے اور قبیلہ کی لڑکیاں دفیں بجا بجا کر یہ شعر گار ہی تھیں۔نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي نَجَارِ يَا حَبَدًا مُحَمَّدًا مِنْ جَارٍ یعنی ہم قبیلہ بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اور ہم کیا ہی خوش قسمت ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی المی کم ہمارے محلہ میں ٹھہرنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔197❝