اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 64

باب بدر جلد 2 64 رض حضرت ابو بکر صدیق رسول کریم صلی یکم کی وفات کے بعد پہلے حضرت ابو بکر پھر حضرت عمر خلیفہ ہوئے۔اسلام کی بڑھتی ہوئی شان کو دیکھ کر ایرانیوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے اور بجائے اسلام کو کچلنے کے خود اسلام کے مقابلہ میں کچلے گئے۔کسریٰ کا دارالامارہ اسلامی فوجوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہوا اور ایران کے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔جو مال اس ایرانی حکومت کا اسلامی فوجوں کے قبضہ میں آیا اس میں وہ کڑے بھی تھے جو کسری ایرانی دستور کے مطابق تخت پر بیٹھتے وقت پہنا کر تا تھا۔سراقہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے اس واقعہ کو جو رسول کریم صلی کم کی ہجرت کے وقت اسے پیش آیا مسلمانوں کو نہایت فخر کے ساتھ سنایا کرتا تھا اور مسلمان اس بات سے آگاہ تھے کہ رسول اللہ صلی علیم نے اسے مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ سراقہ ! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھ میں کسری کے کنگن ہوں گے۔حضرت عمرؓ کے سامنے جب اموالِ غنیمت لاکر رکھے گئے اور ان میں انہوں نے کسری کے کنگن دیکھے تو سب نقشہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔وہ کمزوری اور ضعف کا وقت جب خدا کے رسول کو اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا تھا۔وہ سراقہ اور دوسرے آدمیوں کا آپ کے پیچھے اس لئے گھوڑے دوڑانا کہ آپ کو مار کر یا زندہ کسی صورت میں بھی مکہ والوں تک پہنچادیں تو وہ سو اونٹوں کے مالک ہو جائیں گے اور اس وقت آپ کا سراقہ سے کہنا۔سراقہ اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔کتنی بڑی پیشگوئی تھی۔کتنا مصفی غیب تھا۔حضرت عمر نے اپنے سامنے کسری کے کنگن دیکھے تو خدا کی قدرت ان کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔انہوں نے کہا سراقہ کو بلاؤ۔سراقہ بلائے گئے تو حضرت عمرؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ کسریٰ کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنیں۔سراقہ نے کہا اے خدا کے رسول کے خلیفہ ! سونا پہننا تو مسلمانوں کے لئے منع ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہاں منع ہے مگر ان موقعوں کے لئے نہیں۔اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی ا تم کو تمہارے ہاتھ میں سونے کے کنگن دکھائے تھے یا تو تم یہ کنگن پہنو گے یا میں تمہیں سزا دوں گا۔سراقہ کا اعتراض تو محض شریعت کے مسئلہ کی وجہ سے تھا ورنہ وہ خود بھی رسول اللہ صلی اللی کم کی پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھنے کا خواہش مند تھا۔سراقہ نے وہ کنگن اپنے ہاتھ میں پہن لئے اور مسلمانوں نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔1746 پھر ذکر آتا ہے کہ واپسی پر ایک قافلے نے جو قریش نے ہی آپ کی تلاش میں بھیجا تھا سراقہ سے آپ کے قافلے کے متعلق پوچھا لیکن سراقہ نے نہ صرف یہ کہ آپ صلی لی ایم کے قافلے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا بلکہ اس طرح کی گفتگو کی کہ تعاقب کرنے والے واپس لوٹ گئے۔ام معبد کی روایت 175 اس سفر ہجرت میں اُمّ معبد کا ایک واقعہ ہے جس کا ذکر ملتا ہے۔ہجرت کے اس سفر کے دوران ایک خیمے کے پاس سے گزرتے ہوئے زادِ راہ کی طلب میں نبی کریم صلی الی ظلم کا یہ قافلہ رکا۔یہ ام معبد کا