اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 32

اصحاب بدر جلد 2 32 حضرت ابو بکر صدیق کان لگا لگا کر قرآن سنتے کیونکہ آپ کی آواز میں بڑی رفت، سوز اور درد تھا اور قرآن کریم چونکہ عربی میں تھا ہر عورت مرد بچہ اس کے معنی سمجھتا تھا اور سننے والے اس سے متاثر ہوتے تھے۔جب یہ بات پھیلی تو مکہ میں شور پڑ گیا کہ اس طرح تو سب لوگ بے دین ہو جائیں گے۔یعنی قرآن کریم سن کے اور آپ کی رفت بھری آواز سن کے تو یہ لوگ بے دین ہو جائیں گے۔یہی حال آجکل احمدیوں کے ساتھ بعض ملکوں میں ہو رہا ہے خاص طور پر پاکستان میں کہ اگر قرآن پڑھتے اور نماز پڑھتے دیکھ لیا احمدیوں کو تو بے دین ہو جائیں گے۔اس لیے احمدی کے نماز اور قرآن پڑھنے پر بڑی سخت سزائیں ہیں۔بہر حال لکھتے ہیں کہ آخر لوگ اس رئیس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ تم نے اس کو پناہ میں کیوں لے رکھا ہے ؟ اس رئیس نے آکر حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ اس طرح قرآن نہ پڑھا کریں۔مکہ کے لوگ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا پھر اپنی پناہ تم واپس لے لو۔میں تو اس سے باز نہیں آسکتا۔چنانچہ اس رئیس نے اپنی پناہ واپس لے لی۔93 شعب ابی طالب میں حضرت ابو بکر کی موجودگی شعب ابی طالب میں بھی حضرت ابو بکر رسول کریم صلی علی ایم کے ہمراہ تھے۔قریش مکہ نے توحید کے پیغام کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی مگر جب انہیں ہر طرف سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو انہوں نے ایک عملی اقدام کے طور پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ساتھ قطع تعلقی کا فیصلہ کیا۔چنانچہ اس بارے میں سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح لکھا ہے کہ ” قریش نے ایک عملی اقدام کے طور پر باہم مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ آنحضرت صلی یہ کم اور تمام افراد بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات قطع کر دیئے جاویں اور اگر وہ آنحضرت صلی یکم کی حفاظت سے دستبر دار نہ ہوں تو ان کو ایک جگہ محصور کر کے تباہ کر دیا جاوے۔چنانچہ محرم 17 نبوی میں ایک باقاعدہ معاہدہ لکھا گیا کہ کوئی شخص خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب سے رشتہ نہیں کرے گا اور نہ ان کے پاس کوئی چیز فروخت کرے گا۔نہ ان سے کچھ خریدے گا اور نہ ان کے پاس کوئی کھانے پینے کی چیز جانے دے گا اور نہ ان سے کسی قسم کا تعلق رکھے گا۔“ یہی سلوک آج کل بعض احمدیوں کے ساتھ بھی بعض جگہوں پر ہوتا ہے۔بہر حال اس میں آگے لکھا تھا کہ ”جب تک کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے الگ ہو کر آپ کو ان کے حوالے نہ کر دیں۔یہ معاہدہ جس میں قریش کے ساتھ قبائل بَنُو كِنَانَہ بھی شامل تھے با قاعدہ لکھا گیا اور تمام بڑے بڑے رؤساء کے اس پر دستخط ہوئے اور پھر وہ ایک اہم قومی عہد نامہ کے طور پر کعبہ کی دیوار کے ساتھ آویزاں کر دیا گیا۔چنانچہ آنحضرت صلی میں کم اور تمام بنو ہاشم اور بنو مطلب کیا مسلم اور کیا کافر (سوائے آنحضرت صلی علی کلم کے چچا ابو لہب کے جس نے اپنی عداوت کے جوش میں قریش کا ساتھ دیا) شعب ابی طالب میں جو ایک پہاڑی درہ کی صورت میں تھا محصور ہو گئے اور اس طرح گویا قریش کے دو بڑے قبیلے مکہ کی تمدنی زندگی سے عملاً بالکل منقطع ہو گئے اور شیعب ابی طالب میں جو گویا