اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 31

اصحاب بدر جلد 2 31 حضرت ابو بکر صدیق بیٹوں اور ہماری عورتوں کو گمراہ کر دے گا۔ابن دغنہ نے حضرت ابو بکر سے یہ کہہ دیا تو حضرت ابو بکر اپنے گھر سے ہی اپنے رب کی عبادت کرنے لگے اور اپنے گھر کے سوا کسی اور جگہ نماز اور قرآن اعلانیہ نہ پڑھتے۔پھر کچھ عرصے کے بعد حضرت ابو بکر کو خیال آیا تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد یعنی نماز پڑھنے کی جگہ بنالی اور کھلی جگہ میں نکلے۔وہیں نماز بھی پڑھتے اور قرآن مجید بھی اور ان کے پاس مشرکوں کی عورتیں اور بچے جمگھٹا کرتے۔وہ تعجب کرتے۔یعنی حضرت ابو بکر کو دیکھ کر تعجب کرتے اور حضرت ابو بکر کو دیکھتے کہ وہ بہت ہی رونے والے آدمی تھے۔جب قرآن پڑھتے تو اپنے آنسوؤں کو نہ تھام سکتے۔اس کیفیت نے قریش کے مشرک سرداروں کو پریشان کر دیا اور انہوں نے ابن دغنہ کو بلا بھیجا۔وہ ان کے پاس آیا اور انہوں نے اس سے کہا کہ ہم نے تو ابو بکر کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرتا رہے لیکن انہوں نے اس شرط کی پروا نہیں کی اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنالی ہے اور نماز اور قرآن اعلانیہ پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمارے لڑکوں اور ہماری عورتوں کو آزمائش میں ڈال دے گا۔تم اس کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کرے کہ اپنے گھر کے اندر ہی رہ کر اپنی عبادت کرے تو کرے ورنہ اگر اعلانیہ پڑھنے پر مصر رہے تو اسے کہو کہ تمہارے امان کی ذمہ داری تمہیں واپس کر دے کیونکہ ہمیں یہ بُر امعلوم ہوتا ہے کہ تمہاری ذمہ داری توڑیں اور ہم تو ابو بکر کو کبھی بھی اعلانیہ عبادت نہیں کرنے دیں گے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ابن دغنہ ابو بکر کے پاس آیا اور کہنے لگا آپ کو اس شرط کا علم ہی ہے جس پر میں نے آپ کی خاطر یہ عہد کیا تھا۔اس لیے یا تو آپ اس حد تک محدودر ہیں ورنہ میری ذمہ داری مجھے واپس کر دیں کیونکہ میں پسند نہیں کرتا کہ عرب یہ بات سنیں کہ جس شخص کو میں نے پناہ دی تھی اس سے میں نے بد عہدی کی ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ میں آپ کی پناہ آپ کو واپس کرتا ہوں اور اللہ ہی کی پناہ پر راضی ہوں۔91 92 حضرت ابو بکر نے اپنے صحن میں جو مسجد بنائی تھی اس کے بارے میں صحیح بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ یہ مسجد گھر کی دیواروں تک پھیلی ہوئی تھی اور یہ پہلی مسجد تھی جو اسلام میں بنائی گئی۔ابو بکر جیسا انسان جس کا سارا مکہ ممنون احسان تھا حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں ابو بکر جیسا انسان جس کا سارا مکہ ممنون احسان تھا۔وہ جو کچھ کماتے تھے غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کر دیتے تھے۔آپ ایک دفعہ مکہ کو چھوڑ کر جارہے تھے کہ ایک رئیس آپ سے راستے میں ملا اور اس نے پوچھا ابو بکر تم کہاں جارہے ہو ؟ آپ نے فرمایا اس شہر میں اب میرے لیے امن نہیں ہے۔میں اب کہیں اور چارہا ہوں۔اس رئیس نے کہا کہ تمہارے جیسا نیک آدمی اگر شہر سے نکل گیا تو شہر برباد ہو جائے گا۔میں تمہیں پناہ دیتاہوں۔تم شہر چھوڑ کر نہ جاؤ۔آپ اس رئیس کی پناہ میں واپس آگئے۔آپ جب صبح کو اٹھتے اور قرآن پڑھتے تو عور تیں اور بچے دیوار کے ساتھ