اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 430

تاب بدر جلد 2 430 حضرت ابو بکر صدیق جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابو بکر سکا دل رقیق ہے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو وفات سے قبل آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ) حضرت عائشہ سے فرمایا کہ میرے دل میں بار بار یہ خواہش اٹھتی ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دوں کہ وہ میرے بعد ابو بکر کو خلیفہ بنالیں لیکن پھر رک جاتا ہوں کیونکہ میر ادل جانتا ہے کہ میری وفات کے بعد خدا تعالیٰ اور اس کے مومن بندے ابو بکر کے سوا کسی اور کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔آپ رقیق القلب انسان تھے اور اتنی نرم طبیعت کے تھے کہ ایک دفعہ آپ کو مارنے کے لیے بازار میں حضرت عمرؓ آگے بڑھے اور انہوں نے آپ کے کپڑے پھاڑ دیے لیکن وہی ابو بکر جس کی نرمی کی یہ حالت تھی ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت عمر آپ کے پاس آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ تمام عرب مخالف ہو گیا ہے۔صرف مدینہ ، مکہ اور ایک چھوٹی سی بستی میں نماز با جماعت ہوتی ہے۔باقی لوگ نمازیں پڑھتے تو ہیں لیکن ان میں اتنا تفرقہ پیدا ہو چکا ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے تیار نہیں اور اختلاف اتنابڑھ چکا ہے کہ وہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔عرب کے جاہل لوگ جو پانچ پانچ چھ چھ ماہ سے مسلمان ہوئے ہیں مطالبہ کر رہے ہیں کہ زکوۃ معاف کر دی جائے۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ یہ لوگ زکوۃ کے مسئلہ کو سمجھتے تو ہیں نہیں۔اگر ایک دو سال کے لیے انہیں زکوۃ معاف کر دی جائے تو کیا حرج ہے؟ گویا وہ عمر جو ہر وقت تلوار ہاتھ میں لیے کھڑا رہتا تھا اور ذرا ذراسی بات بھی ہوتی تھی تو کہتا تھا یار سول اللہ ! حکم ہو تو اس کی گردن اڑا دوں وہ ان لوگوں سے اتنامر عوب ہو جاتا ہے، اتنا ڈر جاتا ہے، اتنا گھبرا جاتا ہے کہ ابو بکر کے پاس آکر ان سے درخواست کرتا ہے کہ ان جاہل لوگوں کو کچھ عرصہ کے لیے زکوۃ معاف کر دی جائے ہم آہستہ آہستہ انہیں سمجھا لیں گے۔مگر وہ ابو بکر جو اتنار قیق القلب تھا کہ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ انہیں مارنے کے لیے تیار ہو گیا تھا اور بازار میں ان کے کپڑے پھاڑ دیے تھے۔اس نے اس وقت نہایت غصہ سے عمر کی طرف دیکھا یعنی جب حضرت عمر نے یہ بات ان سے کہی کہ لوگوں سے کچھ نہ کہا جائے جو باغی ہو رہے ہیں، دو سال تک نہ زکوۃ لیں ہم آگے سمجھا لیں گے۔جب حضرت عمرؓ نے یہ بات کی تو حضرت ابو بکڑ نے نہایت غصہ سے عمر کی طرف دیکھا اور کہا عمر اتم اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو خدا اور اس کے رسول نے نہیں کی۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن یہ لوگ حدیث العھد ہیں۔دشمن کا لشکر مدینہ کی دیواروں کے پاس پہنچ چکا ہے۔کیا یہ اچھا ہو گا کہ یہ لوگ بڑھتے چلے آئیں اور ملک میں پھر طوائف الملو کی کی حالت پیدا ہو جائے یا یہ مناسب ہو گا کہ انہیں ایک دو سال کے لیے زکوۃ معاف کر دی جائے۔یا طوائف الملو کی ہے یا یہ ہے کہ کسی طرح صلح کرلی جائے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا خدا کی قسم ! اگر دشمن مدینہ کے اندر گھس آئے اور اس کی گلیوں میں مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دے اور عورتوں کی لاشوں کو کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں انہیں زکوۃ معاف نہیں کروں گا۔