اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 423 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 423

محاب بدر جلد 2 423 حضرت ابو بکر صدیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں صبح تک رہا۔کھانا وہاں صبح تک رہا۔کہتے ہیں ہمارے اور ایک قوم کے درمیان ایک عہد تھا اور اس کی میعاد گزر گئی تھی۔ہم نے بارہ آدمیوں کو الگ الگ بٹھایا اور ان میں سے ہر ایک آدمی کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔اللہ بہتر جانتا ہے یعنی کہ ان معاہدہ کرنے والوں کے بارہ آدمی تھے اور ہر ایک کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے۔کہتے ہیں کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہر آدمی کے ساتھ کتنے تھے مگر اس قدر ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آدمیوں کو لوگوں کے ساتھ بھیجا یعنی قابل ذکر تعداد تھی۔حضرت عبد الرحمن کہتے تھے تو ان سب نے اس کھانے میں سے کھایا یا کچھ ایسا ہی کہا۔تو 989 یہ برکت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر کے کھانے میں بھی ایک دفعہ ڈالی۔حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو ؟ حضرت ابو بکر نے کہا میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک سائل نے سوال کیا۔میں نے عبدالرحمن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا۔وہ میں نے اس سے لے لیا اور وہ اس سائل کو دے دیا۔990 اس طرح سوال کرنے والے نے سوال کیا تھا۔میرے بیٹے کے ہاتھ میں روٹی تھی تو میں نے اس سے لے کے پھر اس سوالی کو دے دی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت ابو بکر کے بیٹے عبد الرحمن بھی خلافت کے لائق تھے اور لوگوں نے کہا بھی کہ ان کی طبیعت حضرت عمرؓ سے نرم ہے اور لیاقت بھی ان سے کم نہیں۔ان کو آپ کے بعد خلیفہ بننا چاہئے لیکن حضرت ابو بکر نے خلافت کے لئے حضرت عمر کو ہی منتخب کیا باوجودیکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی طبائع میں اختلاف تھا۔پس حضرت ابو بکر نے خلافت سے ذاتی فائدہ کوئی حاصل نہیں کیا بلکہ آپ خدمت خلق میں ہی بڑائی خیال کیا کرتے تھے۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ”صوفیاء کی ایک روایت ہے۔(واللہ اعلم کہاں تک درست ہے ) کہ حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کے غلام سے پوچھا کہ وہ کون کون سے نیک کام تھے جو تیرا آقا کیا کرتا تھا تا کہ میں بھی وہ کام کروں۔منجملہ اور نیک کاموں کے اس غلام نے ایک کام یہ بتایا کہ روزانہ حضرت ابو بکر روٹی لے کر “ کھانا لے کر ”فلاں طرف جایا کرتے تھے اور مجھے ایک جگہ کھڑا کر کے آگے چلے جاتے تھے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کس مقصد کے لئے اُدھر جاتے تھے۔چنانچہ حضرت عمرؓ اس غلام کے ہمراہ اس طرف کو کھانا لے کر چلے گئے جس کا ذکر غلام نے کیا تھا۔آگے جاکر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غار میں ایک اپانی اندھا جس کے ہاتھ پاؤں نہ تھے بیٹھا ہوا ہے۔حضرت عمرؓ نے اس اپانچ کے منہ میں ایک لقمہ ڈالا تو وہ رو پڑا اور کہنے لگا اللہ تعالیٰ ابو بکر پر رحم فرمائے۔وہ بھی کیا نیک آدمی تھا۔حضرت عمرؓ نے کہا بابا! تجھے کس طرح پتہ چلا کہ ابو بکر فوت ہو گئے ہیں؟ اس نے کہا کہ میرے منہ میں