اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 421

حاب بدر جلد 2 421 حضرت ابو بکر صدیق بکریوں کا دودھ دوہا کرتے تھے۔جب آپ خلیفہ بن گئے تو اس کنبہ کی ایک بچی کہنے لگی کہ اب تو آپ ہماری بکریوں کا دودھ نہیں دوہا کریں گے۔یہ سن کر حضرت ابو بکر نے فرمایا کیوں نہیں۔اپنی جان کی قسم! میں تمہارے لیے ضرور دو ہوں گا اور مجھے امید ہے کہ میں نے جس چیز کو اختیار کیا ہے وہ مجھے اس عادت سے نہ روکے گی جس پر میں تھا۔چنانچہ آپ حسب سابق ان کی بکریوں کا دودھ دوہتے رہے۔جب وہ بچیاں اپنی بکریاں لے کر آتیں تو آپ از راہ شفقت فرماتے دودھ کا جھاگ بناؤں یا نہ بناؤں ؟ اگر وہ کہتیں کہ جھاگ بنا دیں تو برتن کو ذرا ڈور رکھ کر دودھ دوہتے حتی کہ خوب جھاگ بن جاتی۔اگر وہ کہتیں کہ جھاگ نہ بنائیں تو برتن تھن کے قریب کر کے دودھ دوہتے تاکہ دودھ میں جھاگ نہ بنے۔آپ مسلسل چھ ماہ تک یہ خدمت سر انجام دیتے رہے یعنی خلافت کے بعد چھ ماہ تک۔پھر آپ نے مدینہ میں رہائش اختیار کرلی۔پہلے حضرت ابو بکر کے دو گھر تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھر باہر تھا وہاں باہر رہا کرتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوٹی کے قریب، اپنے گھروں کے قریب بھی ان کو ایک جگہ دی تھی وہاں بھی انہوں نے گھر بنایا تھا۔اس کے علاوہ بھی ایک گھر تھا۔مدینہ میں بھی دو گھر تھے لیکن پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں زیادہ وقت یہ جو مضافات میں گھر تھا وہاں رہا کرتے تھے۔خلافت کے بعد پھر مدینہ شفٹ ہو گئے۔جب تک مدینہ نہیں آئے ان بچیوں کی جو ڈیوٹی اپنے ذمہ آپ نے لی ہوئی تھی وہ مسلسل ادا کرتے رہے۔967 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کے کنارے پر رہنے والی ایک بوڑھی اور نابینا عورت کا خیال رکھا کرتے تھے۔آپ اُس کے لیے پانی لاتے اور اُس کا کام کاج کرتے۔ایک مرتبہ آپ جب اُس کے گھر گئے تو یہ معلوم ہوا کہ کوئی شخص آپ سے پہلے آیا ہے جس نے اس بڑھیا کے کام کر دیے ہیں۔انگلی ، آیا دفعہ آپ اس بڑھیا کے گھر جلدی گئے تاکہ دوسرا شخص پہلے نہ آجائے۔حضرت عمر چھپ کر بیٹھ گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ یہ حضرت ابو بکر نہیں جو اس بڑھیا کے گھر آتے تھے اور اُس وقت حضرت ابو بکر خلیفہ تھے۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ کی قسم! یہ آپ ہی ہو سکتے تھے۔88 یعنی اس نیکی میں میرے سے بڑھنے والے آپ ہی ہو سکتے تھے۔ایک روایت موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کی ہے کہ معتمر نے اپنے باپ سے روایت کی اور بتایا کہ ابو عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں بتایا کہ صفہ والے محتاج لوگ تھے اور ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے کو لے جائے اور جس کے پاس چار کا کھانا ہو وہ پانچویں کو لے جائے یا چھٹے کو یا ایسے ہی کچھ الفاظ فرمائے، یعنی وہ غریب لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے لوگ ان کو اپنے گھروں میں لے جائیں اور کھانا کھلائیں۔