اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 404
تاب بدر جلد 2 404 حضرت ابو بکر صدیق اور کتنی ہی سواریاں تھیں جن کو آپ نے سفروں میں دبلا کیا“ یعنی بے شمار سفر کیسے کہ سواریاں تھک جاتی تھیں ” اور بہت سے مراحل طے کئے یہاں تک کہ آپ صاحب تجربہ و فراست بن گئے۔آپ مصائب پر صبر کرنے والے اور صاحب ریاضت تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی آیات کے مورد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لئے چنا اور آپ کے صدق و ثبات کے باعث آپ کی تعریف کی۔یہ اشارہ تھا اس بات کا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیاروں میں سے سب سے بڑھ کر ہیں۔آپ حریت کے خمیر سے پیدا کئے گئے اور وفا آپ کی گھٹی میں تھی۔اس وجہ سے آپ کو خوفناک اہم امر اور ہوش ربا خوف کے وقت منتخب کیا گیا اور اللہ علیم و حکیم ہے۔وہ تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا اور پانیوں کو ان کے ( مناسب حال) سرچشموں سے جاری کرتا ہے۔سو اس نے ابن ابی قحافہ پر نگاہ التفات ڈالی اور اس پر خاص احسان فرمایا۔اور اسے ایک یگانہ روز گار شخصیت بنا دیا۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور وہ بات کرنے والوں میں سب سے سچا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اور اللہ تعالیٰ بات کرنے والوں میں سے سب سے سچا ہے۔کیا فرمایا۔” إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَانْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَ ادَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حکیم (سورۃ التوبہ آیت 40) اگر تم اس (رسول) کی مدد نہ بھی کرو تو اللہ (پہلے بھی) اس کی مدد کر چکا ہے جب اسے ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا ( وطن سے) نکال دیا تھا اس حال میں کہ وہ دو میں سے ایک تھا۔جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نے کبھی نہیں دیکھا اور اس نے ان لوگوں کی بات نیچی کر دکھائی جنہوں نے کفر کیا تھا اور بات اللہ ہی کی غالب ہوتی ہے اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔حضرت ابو بکر کو تعبیر الرؤیا کا فن بھی بہت آتا تھا۔لکھا ہے کہ : 9496 علم تعبیر میں حضرت ابو بکر صدیق "بڑا ملکہ رکھتے تھے۔علم تعبیر میں آپ کو سب سے زیادہ فوقیت حاصل تھی۔یہاں تک کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں آپ خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے تھے۔امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت 950 ابو بکر صدیق نسب سے بڑے معتر تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان کردہ چند خوابوں کی تعبیریں بیان کی جاتی ہیں۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ احد سے واپسی کے موقع پر ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے خواب میں ایک بادل دیکھا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ لوگ اپنے ہاتھوں میں اس سے لے رہے تھے۔کوئی زیادہ لینے والا کوئی تھوڑا لینے والا