اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 401

اصحاب بدر جلد 2 401 حضرت ابو بکر صدیق نے یہی لکھا ہے کہ حضرت ابو بکڑ نے کچھ اشعار کہے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر آپ کی تدفین کے بعد حضرت ابو بکڑ کے اشعار یہ بیان کیسے جاتے ہیں یعنی ترجمہ یہ ہے کہ اے آنکھ اتجھے سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر رونے کے حق کی قسم اتو روتی رہ اور اب تیرے آنسو کبھی نہ ھمیں۔اے آنکھ اخندف یعنی قبیلہ قریش کے بہترین فرزند پر آنسو بہا جو کہ شام کے وقت لحد میں چھپا دیے گئے ہیں۔پس بادشاہوں کے بادشاہ، بندوں کے والی اور عبادت کرنے والوں کے رب کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ہو۔پس حبیب کے بچھڑ جانے کے بعد اب کیسی زندگی۔دس جہانوں کو زینت بخشنے والی ہستی کی جدائی کے بعد کیسی آراستگی۔پس جس طرح ہم سب زندگی میں بھی ساتھ ہی تھے ، کاش موت بھی ہم سب کو ایک ساتھ گھیرے میں لے لیتی۔944 یہ اشعار کا ترجمہ ہے۔آپ کی فراست کے بارے میں آتا ہے کہ بہت صاحب فراست تھے۔حضرت ابوسعید خدری نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے دنیا کا یا اس کا جو اللہ کے پاس ہے۔تو اس نے جو اللہ کے پاس ہے اسے پسند کیا ہے۔اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رو پڑے تو میں نے اپنے دل میں کہا اس بزرگ کو کیا بات ڈلا رہی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے بندے کو دنیا یا جو اس کے پاس ہے پسند کرنے کے متعلق اختیار دیا ہے تو پھر اس نے جو اللہ عزو جل کے پاس ہے اسے چن لیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے اور حضرت ابو بکر ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو بکر امت رو۔آگے ان کی روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر امت رو۔یقینا تمام لوگوں میں سب سے بڑھ کر مجھ سے اپنی رفاقت اور اپنے مال کے ذریعہ نیکی کرنے والا ابو بکر ہی ہے۔اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بنانے والا ہو تا تو میں ابو بکر کو بناتا لیکن اسلام کی برادری اور محبت ہی ہے۔مسجد میں کوئی دروازہ نہ رہے مگر بند کر دیا جائے سوائے ابو بکر کے دروازے کے۔فراست کے حوالے سے یہ حوالہ دوبارہ پیش کیا۔یہ دروازوں کا جو حوالہ ہے پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔اس کی ایک تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے جو آگے بیان کروں گا۔بہر حال حضرت مصلح موعود اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام آئے تو ایک دن آپ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اور صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے اس کو اس کے خدا نے مخاطب کیا اور کہا اے میرے بندے! میں تجھے اختیار دیتا ہوں کہ چاہے تو دنیا میں رہ اور چاہے تو میرے پاس آجا۔اس پر اس بندے نے خدا کے قرب کو پسند کیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تو حضرت ابو بکر رو پڑے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں “ یہاں حضرت عمرؓ کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔”حضرت عمر کہتے ہیں کہ مجھے 945