اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 400 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 400

اصحاب بدر جلد 2 400 حضرت ابو بکر صدیق میں سے قریش کے حسب و نسب اور جو اچھائیاں اور برائیاں اُن کے نسب میں تھیں ان کا آپ سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے اور آپ اُن کی برائیوں کا تذکرہ نہیں کرتے تھے۔اسی وجہ سے آپ حضرت عقیل بن ابو طالب کی نسبت ان میں زیادہ مقبول تھے یعنی قریش میں زیادہ مقبول تھے۔حضرت عقیل حضرت ابو بکر کے بعد قریش کے حسب و نسب اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اچھائیوں اور برائیوں کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔مگر حضرت عقیل قریش کو ناپسندیدہ تھے کیونکہ وہ قریش کی برائیاں بھی گنوا دیتے تھے۔حضرت عقیل مسجد نبوی میں نسب ناموں، عرب کے حالات و واقعات کا علم حاصل کرنے کے لیے حضرت ابو بکر کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔اہل مکہ کے نزدیک حضرت ابو بکر ان کے بہترین لوگوں میں سے تھے چنانچہ جب بھی انہیں ابو کوئی مشکل پیش آتی تو آپ سے مدد طلب کرتے تھے۔942 بیان ہوا ہے کہ حضرت ابو بکر کو انساب عرب بالخصوص قریش کے نسب کا علم سب سے زیادہ ہے۔چنانچہ جب قریش کے شعراء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار کہے تو حضرت حسان بن ثابت کے سپرد یہ خدمت ہوئی کہ وہ اشعار میں ہی ان کے ہجو کا جواب دیں۔حضرت حسان جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ تم قریش کی ہجو کیسے کہو گے جبکہ میں خود بھی قریش میں سے ہوں۔اس پر حضرت حسان نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے سے بال یا مکھن سے بال نکال لیا جاتا ہے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ تم حضرت ابو بکڑ کے پاس جاؤ اور ان سے قریش کے نسب کے بارے میں پوچھ لیا کرو۔حضرت حسان کہتے تھے کہ پھر میں اشعار لکھنے سے پہلے حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوتا اور وہ میری قریش کے مر دوں اور عورتوں کے بارے میں راہنمائی فرماتے۔چنانچہ جب حضرت حسان کے اشعار مکہ جاتے تو مکہ والے کہتے کہ ان اشعار کے پیچھے ابو بکر کی راہنمائی اور مشورہ شامل ہے۔943 حضرت ابو بکر علم الانساب کی طرح ایام عرب یعنی عربوں کی باہم جنگوں کی تاریخ کے بھی بہت بڑے عالم تھے۔اسی طرح حضرت ابو بکر گو کہ با قاعدہ شاعر تو نہ تھے لیکن شعری ذوق خوب تھا۔حضرت ابو بکر صدیق کے سیرت نگاروں نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ آپ نے باقاعدہ طور پر شعر کہے تھے یا نہیں اور کچھ سیرت نگاروں نے نفی کی ہے کہ آپ نے اشعار کہے ہوں گے البتہ بعض سیرت نگاروں نے حضرت ابو بکر کے کچھ اشعار کا بھی ذکر کیا ہے۔اسی طرح حضرت ابو بکر کے اشعار پر مشتمل، پیچیں قصائد پر مشتمل ایک مخطوطہ جو کہ ترکی کے کتب خانے سے دستیاب ہو ا ہے وہاں پڑا ہوا ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ یہ حضرت ابو بکر کے اشعار ہیں۔اس میں کسی لکھنے والے نے یہاں تک لکھا ہے کہ مجھے ان اشعار کی حضرت ابو بکر کی طرف نسب کی تصدیق الہامی طور پر ہوئی ہے۔طبقات ابن سعد اور سیرت ابن ہشام