اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 392
اصحاب بدر جلد 2 392 حضرت ابو بکر صدیق پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ فرماتے ہیں: ”حضرت عمر ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تورات کا ایک نسخہ لے کر آئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ! یہ تورات ہے۔آپ ان کی بات سن کر خاموش ہو گئے مگر حضرت عمرؓ نے تو رات کھول کر اسے پڑھنا شروع کر دیا۔914<< اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار ظاہر ہوئے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ بات دیکھی تو وہ حضرت عمر پر ناراض ہوئے اور انہوں نے کہا کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے بر امنا رہے ہیں! ان کی بات سن کر حضرت عمر کو بھی توجہ پیدا ہوئی اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو دیکھا اور جب انہیں بھی آپ کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار دکھائی دیئے تو انہوں نے معذرت کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی طلب کی۔حضرت مصلح موعودؓ نے یہ واقعہ ایک آیت کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ناراضگی حضرت عمر کے تورات کی اس آیت پڑھنے پر تھی جو اسلامی تعلیم سے مختلف ہے، اس کی وجہ سے تھی نہ یہ کہ تورات کیوں پڑھی۔اگر کسی کو اس کی تفسیر پڑھنے میں دلچسپی ہے تو تفسیر کبیر جلد 6 میں سورہ نور کی آیت تین کے ضمن میں اس کی باقی تفصیل بھی لکھی ہوئی ہے۔وہاں سے دیکھ سکتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت صحابہ جس طرح کیا کرتے تھے اس کا ثبوت حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک واقعہ سے مل سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب بعض قبائل عرب نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے خلاف جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔اس وقت حالت ایسی نازک تھی کہ حضرت عمر جیسے انسان نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے نرمی کرنی چاہئے مگر حضرت ابو بکر نے جواب دیا۔ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا طاقت ہے کہ وہ اس حکم کو منسوخ کر دے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا ہے۔خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی ایک رسی بھی زکوۃ میں دیا کرتے تھے تو میں وہ رستی بھی ان سے لے کر رہوں گا اور اس وقت تک دم نہیں لوں گا جب تک وہ زکواۃ ادا نہیں کرتے۔“ یہ بخاری کی روایت ہے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ "اگر تم اس معاملہ میں میر ا ساتھ نہیں دے سکتے تو بیشک نہ دو۔میں اکیلا ہی ان کا مقابلہ کروں گا۔کس قدر اتباع رسول ہے کہ نہایت خطرناک حالات میں باوجود اس کے کہ اکابر صحابہ لڑائی کے خلاف مشورہ دیتے ہیں پھر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو پورا کرنے کے لئے وہ ہر قسم کا خطرہ برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اسی طرح لشکر اسامہ کو روک لینے کے متعلق بھی صحابہ نے بہت زور لگایا مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر دشمن اتنا طاقتور ہو جائے کہ وہ مدینہ پر فتح پائے اور مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے