اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 381
اصحاب بدر جلد 2 381 حضرت ابو بکر صدیق تربا اور کافر کہے گا اے کاش! میں خاک ہو چکا ہوتا، کی تفسیر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ : بعض مسلمان فرقے صحابہ کے بغض میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر موت کے وقت یہی فقرہ کہتے تھے پس ان کا کفر ثابت ہے۔یعنی کیونکہ حضرت ابو بکر یہ پڑھا کرتے تھے وَيَقُولُ الْكَفِرُ لَيْتَنِي كُنتُ تُربا تو اس لیے وہ کافر ہوئے نعوذ باللہ۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ”حالانکہ اگر یہ روایت ثابت ہو“ اگر یہ سچی بات ہے اور یہ آیت حضرت ابو بکر کے متعلق ہو تو ابو بکر کے ایمان کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ کفار کی باتوں کا منکر یعنی ابو بکر یہ کہے گا کہ کاش! میرے ساتھ خدا تعالیٰ کا معاملہ ایسا ہی ہو تا کہ نہ وہ میرے نیک اعمال کا بدلہ دیتا اور نہ میری غلطیوں کی سزا دیتا۔اور یہ فقرہ ایک مومن کامل کا فقرہ ہے۔حدیثوں میں تو خو در سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے کہ آپ یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے اعمال کی وجہ سے بخشا نہیں جاؤں گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بخشا جاؤں گا۔کافر کا لفظ اس جگہ طنزاً استعمال ہوا ہے اور مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اسے کافر کہتے ہیں جو جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہو تا تھا اور جس نے اپنا سارا مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا تھا اور گیارہ سال کی بیٹی آپ سے بیاہ دی تھی جبکہ آپ کی عمر چون پچپن سال کی تھی اور ہجرت میں آپ کے ساتھ تھا جبکہ سارے مکہ کے مقابلہ میں آپ صرف ابو بکر کو ساتھ لے کر کھڑے ہو گئے تھے۔قرآن کریم طنز آ کہتا ہے کہ یہ قربانیاں دینے والا شخص تو کافر ہے۔اگر یہ سمجھا جائے کہ ابو بکر کے متعلق بھی یہ آیت ہے تو یہ طنز الفظ استعمال ہوا ہے کہ یہ قربانیاں دینے والا شخص تو کافر ہے مگر وہ لوگ جنہوں نے اس کے اعمال کے مقابلہ میں کوئی نسبت بھی عمل کی نہیں دکھائی وہ مومن بنتے ہیں۔حضرت ابو بکر کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو انہوں نے حضرت عائشہ سے فرمایا اے میری بیٹی ! تو جانتی ہے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اور عزیز مجھے تم ہو اور میں نے اپنی فلاں جگہ کی زمین تمہیں ہبہ کی تھی۔اگر تم نے اس پر قبضہ کیا ہوتا اور اس کے نفع سے استفادہ کیا ہو تا تو وہ یقیناً تمہاری ملکیت میں تھی لیکن اب وہ میرے تمام وارثوں کی ملکیت ہے۔میں پسند کرتا ہوں کہ تم وہ واپس لوٹا دو۔وہ ہبہ واپس لوٹا دو کیونکہ اس پر تم نے قبضہ نہیں کیا اور میری زندگی میں وہ زمین میرے استعمال میں ہی رہی تاکہ وہ میری ساری اولاد میں اللہ کی کتاب کے مطابق تقسیم ہو جائے اور میں اپنے رب سے اس حالت میں ملوں کہ میں نے اپنی اولاد میں سے کسی کو دوسرے پر فضیلت نہیں دی ہو گی۔اس پر حضرت عائشہ نے عرض کیا آپ کے حکم کی حرف بہ حرف تعمیل کی جائے گی۔186 ذیل کا جو واقعہ میں بیان کرنے لگا ہوں یہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے لیکن آپ کے مناقب کے ضمن میں بھی یہاں دوبارہ ذکر کر تا ہوں۔جب خلافت کی ردا آپ کو اللہ تعالیٰ نے پہنائی تو اس وقت کا ذکر ہے کہ اگلے دن حضرت 887 88566