اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 371 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 371

حاب بدر جلد 2 371 حضرت ابو بکر صدیق گورنر مقرر کرتے تو اس علاقے پر اس کی گورنری کا عہد نامہ تحریر کر ا دیتے اور اکثر اوقات اس علاقے تک پہنچنے کا راستہ بھی اس کے لیے متعین فرما دیتے۔اور اس میں ان مقامات کا ذکر کرتے جہاں سے ان کو گزرنا ہو تا تھا۔خاص کر جب یہ تقرری ان علاقوں سے متعلق ہوتی جو ابھی فتح نہیں ہوئے ہوتے تھے اور اسلامی خلافت کے کنٹرول سے باہر ہوتے۔فتوحات شام اور عراق اور مرتدین کے خلاف جنگوں میں یہ چیزیں بالکل نمایاں نظر آتیں اور بسا اوقات آپ بعض ریاستوں کو دوسروں کے ساتھ ضم کر دیتے، خاص کر مرتدین سے قتال کے بعد یہ عمل میں آیا۔چنانچہ حضرت زیاد بن لبیڈ جو حضر موت کے گورنر تھے ان کی نگرانی میں کندہ کو بھی شامل کر دیا اور اس کے بعد وہ حضر موت اور کندہ دونوں کے گورنر رہے۔861 حضرت ابو بکڑ کے دور میں عاملین کے انتخاب میں اولیت اسلام کو دیکھا جاتا نیز ایسے شخص کو مقرر کیا جاتا جو درسگاہ نبوت سے تربیت یافتہ ہو۔جن کو آنحضرت صلی اللی علم کی صحبت ملی ہو ان کو عامل مقرر کیا جاتا۔پہلی preference وہ تھی، پہلی ترجیح وہ تھی۔اس سلسلہ میں آپ کا معیار یہ تھا کہ جس شخص کو حضور ملی یہ کام جس کام کے لیے مقرر فرما گئے تھے آپ اس میں ہر گز رد و بدل نہ فرماتے تھے۔مثلاً حضور صلی ال یکم نے حضرت اسامہ کو لشکر کا امیر مقرر فرمایا تھا۔بعد میں بعض لوگوں نے مصلحت کے پیش نظر کسی بزرگ صحابی کو اس عہدے پر متمکن کرنے کا مشورہ دیا لیکن آپ نے حضرت اسامہ گوہی بر قرار رکھا۔اسی طرح آپ یہ بھی دیکھتے تھے کہ کسی شخص نے حضور صل اللہ ہم سے زیادہ فیض حاصل کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ اکثر و بیشتر مختلف ذمہ داریاں ان لوگوں کے سپر د کیا کرتے تھے جو فتح مکہ سے قبل مسلمان ہوئے تھے۔اس سلسلہ میں آپ نے کبھی قبائلی عصبیت یا اقر بانوازی کارویہ اختیار نہیں کیا۔اسی سخت اصول اور بلند معیاری کا نتیجہ تھا کہ آپؐ کے مقرر کردہ عمال و حکام نے ہمیشہ اپنی بہترین صلاحیتیں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے استعمال کیں۔862 حضرت ابو بکر صدیق تعمال کی تقرری میں اہل علاقہ کی رائے کا بھی احترام کرتے تھے چنانچہ حضرت علاء بن حضر می عہد نبوی میں بحرین کے گورنر رہے بعد میں کسی وجہ سے ان کو وہاں سے کہیں اور بھجوا دیا گیا۔پھر حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں اہل بحرین نے حضرت ابو بکر کو درخواست کی کہ حضرت علامہ کو ان کے پاس واپس بھجوا دیا جائے تو حضرت ابو بکر نے حضرت علاء بن حضر می گو بحرین کا گورنر بنا کر ان کے پاس بھجوا دیا۔663 عاملین کو بھی آپ نے ہدایات دیں۔اس کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر حکام کے تقرر کے موقع پر خود ہدایات دیتے تھے چنانچہ تاریخ طبری میں ہے کہ عمرو بن عاص اور ولید بن عقبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔ظاہر و باطن میں خدا سے ڈرتے رہو۔جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لیے رہائی کا راستہ پیدا کر دیتا ہے اور اس کو ایسے ذریعہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے ملنے کا اس کو گمان