اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 356

صحاب بدر جلد 2 356 حضرت ابو بکر صدیق پڑاؤ کیا۔پھر اسلامی لشکر نے آگے بڑھ کر قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔حضرت خالد نے دمشق کے تمام دروازوں پر سر داروں کو ان کے لشکر سمیت متعین کر دیا۔812 اس وقت دمشق کا حاکم تو ما تھا۔دمشق کے رؤساء امرا اور دانشمند لوگوں نے تو ما کو مشورہ دیا کہ ہمارے پاس اسلامی لشکر سے مقابلے کی طاقت نہیں۔اس لیے یا تو ھر قل سے مدد طلب کرو یا پھر مسلمانوں سے مصالحت کر لو۔جو وہ طلب کریں انہیں دے کر اپنی جان بچاؤ۔اس پر ٹوٹا نے تکبر اور غرور سے کہا کہ میں عربوں کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتا۔میں ھر قل اعظم کا داماد اور جنگ کا ماہر ہوں۔میرے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو شہر میں پاؤں رکھنے کی جرات نہ ہو گی۔رؤسا کے سمجھانے پر توما نے یہ کہہ کر انہیں تسلی دی کہ عنقریب ھر قل کی طرف سے ایک بڑا لشکر ہماری مدد کے لیے آرہا ہے۔تو مانے ہر طرف سے مسلمانوں پر شدت سے حملے کا حکم دیا۔ان حملوں کے دوران کئی مسلمان زخمی اور شہید ہوئے۔حضرت ابان بن سعید کو بھی ایک زہر آلود تیر لگا۔تیر نکالنے کے بعد انہوں نے زخم پر عمامہ باندھ لیا لیکن تھوڑی ہی دیر میں زہر ان کے جسم میں سرایت کر گیا اور وہ غش کھا کر گر گئے اور وہیں کچھ دیر بعد جام شہادت نوش کر گئے۔حضرت ابان کا نکاح اجنادین کی جنگ کے دوران حضرت اُم آبان سے ہو ا تھا اور ان کے ہاتھ کی مہندی کا رنگ اور سر میں عطر کی خوشبو باقی تھی یعنی بالکل تازہ شادی تھی۔حضرت ام ابان کا شمار عرب کی ان بہادر خواتین میں ہو تا تھا جو جہاد کرنے میں پیش پیش رہتی تھیں۔جب ان کو اپنے خاوند کی شہادت کی اطلاع ملی تو وہ بھاگتی ہوئی اور ٹھوکریں کھاتی ہوئی آئیں اور اپنے خاوند کی لاش کے پاس صبر و استقلال کا ایک پیکر بن کر کھڑی ہو گئیں۔اپنی زبان سے ناشکری کا ایک کلمہ بھی نہ نکالا اور اپنے خاوند کی جدائی میں چند اشعار کہے۔حضرت خالد بن ولید نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔تدفین کے بعد حضرت ام آبان اپنے خیمے کی طرف ایک عزم محکم اور پختہ ارادے کے ساتھ گئیں۔اپنے ہتھیار تھامے اور اپنے چہرے پر کپڑا باندھا اور باب تؤا پر پہنچ گئیں جہاں ان کے خاوند شہید ہوئے تھے۔باب ٹو کا پر اس وقت سخت لڑائی جاری تھی۔حضرت ام آبان ان مسلمانوں میں شامل ہو کر سخت لڑائی لڑتی رہیں اور اپنے تیروں سے کئی رومیوں کو زخمی اور موت کے گھاٹ اتار دیا اور بالآخر لڑائی کے دوران موقع پا کر گویا کے محافظ کا نشانہ لیا جس کے ہاتھ میں صلیب اعظم تھی۔یہ صلیب سونے کی بنی ہوئی تھی اور اس میں قیمتی جواہر جڑے ہوئے تھے۔صلیب اعظم اٹھانے والا شخص رومیوں کو جنگ کی ترغیب دیتا تھا اور صلیب کے وسیلے سے فتح وکامیابی کی دعا مانگتا تھا۔حضرت ام ابان کا تیر جیسے ہی اس کو لگا اس کے ہاتھ سے صلیب گر گئی اور مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئی۔ٹوٹا نے جب دیکھا کہ صلیب مسلمانوں کے قبضہ میں چلی گئی ہے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کو واپس لینے کے لیے نیچے اتر آیا اور دروازہ کھول کر مسلمانوں سے مقابلہ شروع کر دیا۔اس دوران قلعہ کے اوپر سے رومیوں نے بھی سخت حملے کرنے شروع کر دیے۔اس دوران حضرت ام ابان نے موقع دیکھ کر