اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 333
حاب بدر جلد 2 چوتھا لشکر 333 حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر و بن عاص کا تھا۔اس کے بارے میں لکھا ہے کہ: حضرت ابو بکر نے ایک لشکر حضرت عمرو بن عاص کی قیادت میں شام کی طرف روانہ کیا تھا۔حضرت عمرو بن عاص شام جانے سے قبل قضاعہ کے ایک حصہ کے صدقات کی تحصیل کے لیے مقرر تھے۔جبکہ قضاعہ کے دوسرے نصف حصہ کی صدقات کی تحصیل کے لیے حضرت ولید بن عقبہ مقرر کیے گئے تھے۔جب حضرت ابو بکر نے شام کی جانب مختلف لشکر روانہ فرمانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی خواہش تھی کہ حضرت عمرو بن عاص کو شام کی طرف بھیجیں لیکن ان کے کارناموں کی وجہ سے، حضرت عمرو کے کارناموں کی وجہ سے جو انہوں نے فتنہ ارتداد کو ختم کرنے کے لیے انجام دیے تھے حضرت ابو بکر نے انہیں یہ اختیار دیا کہ خواہ وہ قضاعہ میں ہی مقیم رہیں یا شام جا کر وہاں کے مسلمانوں کی تقویت کا باعث بنیں۔769 چنانچہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمر و بن عاص کو خط لکھا کہ : اے ابو عبد اللہ ! میں تم کو ایک ایسے کام میں مصروف کرنا چاہتا ہوں جو تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہترین ہے سوائے اس کے کہ تمہیں وہ کام زیادہ پسند ہو جو تم انجام دے رہے ہو۔اس کے جواب میں حضرت عمرو بن عاص نے حضرت ابو بکر کو یہ لکھا کہ : میں اسلام کے تیروں میں سے ایک تیر ہوں اور اللہ کے بعد آپ ہی ایک ایسے شخص ہیں جو ان تیروں کو چلانے اور جمع کرنے والے ہیں۔آپ دیکھیں کہ ان میں سے جو تیر نہایت سخت، زیادہ خوفناک اور بہترین ہو اسے اس طرف چلا دیجیے جس طرف آپ کو کوئی خطرہ نظر آئے۔یعنی کہ میں تو ہر قسم کے خطرے میں جانے کے لیے ہر طرح تیار ہوں۔770 جب حضرت عمر و بن عاص مدینہ آئے تو حضرت ابو بکر نے انہیں حکم دیا کہ مدینہ سے باہر جاکر خیمہ زن ہو جائیں تاکہ لوگ آپ کے ساتھ جمع ہوں۔اشراف قریش میں سے بہت سے لوگ آپ کے ساتھ شامل ہوئے۔جب فیصلہ ہو گیا کہ شام کی طرف جانا ہے تو پھر حضرت عمرو بن عاص کو مدینہ بلایا گیا۔آپ وہاں آئے اور پھر یہاں حضرت ابو بکر نے آپ کو اپنے ساتھ لشکر تیار کرنے کے لیے فرمایا کہ مدینہ کے باہر خیمہ زن ہو جائیں تاکہ لوگ آپ کے پاس آئیں۔جب آپ نے روانہ ہونے کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابو بکر آپ کو رخصت کرنے نکلے۔فرمایا: اے عمرو! تم رائے اور تجربہ کے مالک ہو اور جنگی بصیرت رکھتے ہو۔تم اپنی قوم کے اشراف اور مسلم صلحاء کے ساتھ جارہے ہو اور اپنے بھائیوں سے ملو گے۔لہذا ان کی خیر خواہی میں کو تاہی نہ کرنا اور ان سے اچھے مشورے کو نہ روکنا کیونکہ تمہاری رائے جنگ میں قابل تعریف اور انجام کار بابرکت ہو سکتی ہے۔اگر کوئی مشورہ دے تو ان سے اچھے مشورے کو نہ روکنا، اگر تمہارے پاس کوئی تجویز ہے تو اس کو بے شک استعمال کرنا۔حضرت عمرو بن عاص نے