اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 322
حضرت ابو بکر صدیق اصحاب بدر جلد 2 753 322 حاصل ہو جائے گا اور جہاں تک ہمارا پہاڑ کی چوٹی سے اتر کر زرخیز زمین کی طرف جانے کا تعلق ہے جس میں سر سبز و شاداب فصلیں، چشمے ، بستیاں اور قلعے تھے تو اس سے مراد یہ ہے کہ ہم پہلے سے زیادہ آسانی پائیں گے جس میں خوشحالی اور فراخی ہو گی اور ہمیں پہلے سے زیادہ زرخیز زمین میسر آئے گی۔جہاں تک میر امسلمانوں کو یہ حکم دینے کا تعلق ہے کہ دشمن پر حملہ کرو، میں فتح اور مال غنیمت کی ضمانت دیتاہوں تو اس سے مراد میرا مسلمانوں کو مشرکین کے ممالک کی طرف بھیجنا اور انہیں جہاد پر ابھارنا ہے۔اور جہاں تک اس جھنڈے کا تعلق ہے جو تمہارے پاس تھا جس کو تم لے کر ان بستیوں میں سے ایک نبستی کی طرف گئے اور اس میں داخل ہوئے اور وہاں کے لوگوں نے تم سے امان طلب کی اور تم نے انہیں امان دے دی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس علاقے کو فتح کرنے والے امر امیں سے ایک ہوگے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں فتح دے گا اور رہا وہ قلعہ جسے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے فتح کرایا تو اس سے مراد وہ علاقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ میرے لیے فتحیاب کرے گا اور جہاں تک اس تخت کا تعلق ہے جس پر تُو نے مجھے بیٹھا ہوا دیکھا تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے عزت ورفعت سے نوازے گا اور مشرکین کو ذلیل ورسوا کرے گا۔اور جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جس نے مجھے نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیا اور میرے سامنے سورہ نصر کی تلاوت کی تو اس طرح اس نے مجھے میری موت کی خبر دی ہے۔یہی سورت جب نبی کریم صلی علیکم پر نازل ہوئی تو آپ کو علم ہو گیا تھا کہ اس سورت میں آپ کی وفات کی خبر دی جارہی ہے۔تو یہ تعبیر حضرت ابو بکر نے اس خواب کی فرمائی۔پر لشکر کشی کے لئے مشاورت بہر حال جب حضرت ابو بکر نے شام کی فتح کے لیے لشکر تیار کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے مشورے کے لیے حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور اہل بدر میں سے کبار مہاجرین و انصار نیز دیگر صحابہ کو طلب کیا۔جب یہ اصحاب آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اللہ کی ستیں بے شمار ہیں۔اعمال ان کا بدلہ نہیں ہو سکتے۔اس بات پر اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد کرو کہ اس نے تم پر احسان کیا اور تمہیں ایک کلمہ پر جمع کیا اور تمہارے درمیان صلح کروائی۔تمہیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور تم سے شیطان کو دور کیا۔اب شیطان کو تمہارے شرک میں مبتلا ہونے اور خدا کے سوا کسی اور کو معبود بنانے کی امید نہیں رہی۔آج عرب ایک امت ہیں جو ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔میری رائے یہ ہے کہ میں ان کو رومیوں سے جنگ کے لیے شام بھجواؤں۔جو ان میں سے مارا گیا وہ شہید ہے۔اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والوں کے لیے بہترین بدلہ تیار کر رکھا ہے۔اور ان میں سے جو زندہ رہاوہ دین اسلام کا دفاع کرتے ہوئے زندہ رہے گا اور اللہ تعالیٰ سے مجاہدین کے اجر و ثواب کا مستحق ہو گا۔یہ میری رائے ہے۔اب آپ لوگوں میں سے ہر شخص اپنی رائے کے مطابق مشورہ دے۔حضرت ابو بکر شام