اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 316 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 316

اصحاب بدر جلد 2 316 حضرت ابو بکر صدیق اس جنگ کے دوران دو ایسے مسلمان اسلامی فوج کے ہاتھ مارے گئے جو مصبح میں مقیم تھے اور جن کے پاس حضرت ابو بکر صدیق کا عطا کیا ہوا امان نامہ بھی تھا۔جب حضرت ابو بکر صدیق کو ان کے مارے جانے کی اطلاع ملی تو آپ نے ان کا خون بہا ادا کر دیا۔حضرت عمرؓ نے اصرار کیا کہ حضرت خالد بن ولید گو ان کے اس فعل کی سزاملنی چاہیے۔حضرت عمر بڑے پر جوش تھے کہ کیوں مسلمانوں کو قتل کیا لیکن حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ جو مسلمان دشمن کی سرزمین میں دشمن کے ساتھ قیام پذیر ہوں گے ان کے ساتھ ایسی صور تحال پیدا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔اس طرح ہو جاتا ہے۔تاہم حضرت ابو بکر نے ان کی اولاد کی پرورش اور ان کا خیال رکھنے کے متعلق وصیت بھی فرمائی۔748 شنی اور زمیل کا واقعہ۔زمیل ایک مقام ہے۔اس کا نام بشر بھی آتا ہے۔یہ منی مقام کے ساتھ ہے۔عقہ جو معرکہ عین التمر میں مارا گیا تھا اس کے انتقام کے جوش میں ربیعہ بن بجیر اپنی فوج کو لے کر شنی اور بشر میں اترا اور حضرت خالد نے مصیح کے معرکہ کو سر کر کے قعقاع اور ابو لیلیٰ کو اپنے آگے روانہ کر دیا اور ایک رات مقرر کر کے طے کیا کہ ہم سب مصیح کی طرح یہاں بھی تین مختلف سمتوں سے دشمن پر حملہ کریں گے۔اس کے بعد حضرت خالد مصیح سے چل کر مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے زمیل آئے۔حضرت خالد نے شنی سے آغاز کیا۔یہاں ان کے دونوں ساتھی بھی ان سے مل گئے۔ان تینوں نے رات کے وقت تینوں اطراف سے ربیعہ کی فوج پر اور ان لوگوں پر جو بڑی شان سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے تھے شب خون مارا اور تلواریں سونت کر ان کا ایسا صفایا کیا کہ کوئی بھاگ کر کہیں خبر بھی نہ دے سکا۔ان کی عورتیں گرفتار کر لی گئیں۔بیت المال کا خمس حضرت ابو بکر کی خدمت میں بھیج دیا گیا اور باقی مال غنیمت مسلمان لشکر میں تقسیم کر دیا گیا۔ہذیل جس نے جنگ مصیح میں بھی شکست کھا کر جان بچائی تھی وہ حسب وعدہ ربیعہ بن بجیر کی فوج میں شامل ہو ا۔اب پھر اس نے بھاگ کر ز میل میں عتاب کے پاس پناہ لی۔عتاب ایک عظیم الشان لشکر کے ساتھ بشر میں قیام پذیر تھا۔اس سے پہلے کہ اس تک ربیعہ کے خاتمہ کی خبر پہنچتی حضرت خالد نے اس پر بھی تین اطراف سے حملہ کر دیا۔اس معرکہ میں بھی کثرت سے آدمی قتل ہوئے اور بے شمار مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔حضرت خالد نے مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور خُمس حضرت ابو بکر کی خدمت میں بھیج دیا۔حضرت خالد بشر کے قریب ایک مقام رضاب کی طرف مڑے۔وہاں کا افسر ہلال بن عقہ تھا۔اس کی فوج کو جب حضرت خالد کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ اس سے الگ ہو گئی۔مجبور ہلال وہاں سے بھاگ نکلا اور مسلمانوں نے بغیر کسی دقت کے رضاب کو اپنے قبضہ میں کر لیا۔پھر جنگ فراض کے بارے میں آتا ہے۔فراض بصرہ اور یمامہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔یہاں شام، عراق اور جزیرے کے راستے آکر ملتے ہیں۔یہ معرکہ مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان ذی قعدہ بارہ ہجری میں فراض کے مقام پر ہوا۔اسی نسبت سے یہ جنگ جنگ فراض کے نام سے مشہور ہوئی۔749