اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 287
اصحاب بدر جلد 2 287 حضرت ابو بکر صدیق صاف کہ کس طرح قدم قدم پر آپ کو الہی تائید و نصرت اعلیٰ صلاحیتوں کا آئینہ دار سمجھ کر دی اور بغاوت پر قابو بال عرب پر اسلام سال ارتداد کی حاکمیت کو دوبارہ قائم کر دینا ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔حضرت ابو بکر صدیق کو اسلام کے غلبہ سے بے حد خوشی تھی لیکن اس مسرت میں غرور اور تکبر کا نام تک نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ جو کچھ ہوا محض اللہ کے فضل اور اس کی مہربانی سے ہوا۔ان کی یہ طاقت نہیں تھی کہ وہ مٹھی بھر مسلمانوں کے ذریعہ سے سارے عرب کے مرتدین کی جرار فوجوں کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دے کر اسلام کا علم نہایت شان و شوکت سے دوبارہ بلند کر سکتے۔حضرت ابو بکر صدیق کے سامنے اب یہ مسئلہ تھا کہ وحدتِ دینی کو تقویت دینے اور اسلام کو بام عروج تک پہنچانے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے جائیں۔حضرت ابو بکر صدیق کی سیاست کا محور صرف اور صرف رعب اسلام تھا اور یہی خواہش ہر لحظہ ان کے دل و دماغ میں رہتی تھی۔685 ہر چند کہ مرتد باغیوں کا قلع قمع کرنے کے بعد ہر شخص کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ اب خلیفہ رسول صل العلم کے سامنے کوئی فتنہ پرداز جسم نہیں سکتا لیکن عام لوگوں کی طرح حضرت ابو بکر کسی خوش فہمی کا شکار نہ تھے۔آپ جانتے تھے کہ بیرونی طاقتیں ارتداد اور بغاوت کے فتنہ خوابیدہ کو پھر سے بیدار کر کے بدامنی پھیلانے کا موجب بن سکتی ہیں۔یہ فتنہ عارضی طور پر نہ سو گیا ہو۔بیرونی طاقتیں جو مخالف ہیں اسلام کی وہ بڑی بڑی حکومتیں تھیں، وہ عرب کی سرحدوں پر دوبارہ بد امنی پھیلا سکتی ہیں اس لیے وہ کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں تھے۔عرب قبائل کی اس متوقع شورش انگیزی سے بچنے کے لیے مناسب سمجھا گیا کہ عرب قبائل کی توجہ ایران اور شام کی طرف منعطف کی جائے تاکہ انہیں حکومت کے خلاف فساد برپا کرنے کا موقع نہ مل سکے اور اس طرح مسلمانوں کو اطمینان نصیب ہو اور وہ دلجمعی سے احکام دین پر عمل پیرا ہو سکیں۔چنانچہ عرب کی سرحدوں کے دفاع اور اسلامی ریاست کو اپنے مضبوط حریفوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ ان طاقتور قوموں تک اسلام کا پیغام پہنچایا جائے تاکہ یہ قومیں اسلام کے عالمگیر پیغام کو تسلیم کر کے یا سمجھ کر خود بھی امن و سلامتی کے ساتھ اپنی زندگیاں بسر کریں اور دوسرے بھی ان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ اور مامون ہو کر امن اور سلامتی کے ساتھ آزادانہ طور پر اپنے اپنے دین و مذہب پر کار بند ہو سکیں۔بہر حال اس کے لیے حضرت ابو بکر نے کیا طریق اور حکمت عملی اختیار کی۔اس بارے میں تاریخ کی کتب میں لکھا ہے کہ مرتد باغیوں کی جنگوں اور مہمات کے ختم ہونے کے بعد حضرت ابو بکر صدیق آئندہ کے اقدامات کے متعلق غور و فکر میں مشغول تھے کہ عرب اور اسلام کی دیر مینہ دشمن ایران اور روم کی سلطنتوں سے مستقل طور پر محفوظ رہنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔کیونکہ آنحضرت صلی علم کی حیات مبارکہ میں بھی یہ دونوں طاقتیں عرب کو اپنے زیر نگیں رکھنا چاہتی تھیں اور جب آپ صلی علیہ کم کی وفات ہو گئی اور بہت سے علاقوں اور قبائل میں ارتداد اور بغاوت کی 686