اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 14

حاب بدر جلد 2 14 حضرت ابو بکر صدیق ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم کے صحابہ کے مجمع میں حضرت ابو بکر سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے زمانہ جاہلیت میں بھی شراب پی۔اس پر حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: آعُوذُ بِاللہ۔میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔پوچھا گیا اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت ابو بکڑ نے فرمایا میں اپنی عزت کو بچاتا تھا اور اپنی پاکیزگی کی حفاظت کر تا تھا کیونکہ جو شخص شراب پیتا ہے وہ اپنی عزت اور پاکیزگی کو ضائع کرتا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ جب یہ بات رسول اللہ صلی یہ کم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا صَدَقَ أَبُو بَكْرٍ - صَدَقَ أَبُو بَكْرٍ۔یعنی ابو بکر نے سچ کہا۔ابو بکر نے سچ کہا۔آپ نے دو مر تبہ یہ فرمایا۔54 آپ کا قبول اسلام حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کے بارے میں مختلف جگہوں پر روایات ملتی ہیں۔بعض تفصیلی ہیں۔بعض مختصر ہیں۔بہر حال یہ بھی کچھ بیان کر دیتا ہوں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میرے ماں باپ اسی دین یعنی اسلام پر تھے اور ہم پر کوئی ایسا دن نہیں گزرا کہ جس میں رسول اللہ صلی للی تم ہمارے پاس صبح شام دونوں وقت نہ آئے ہوں۔55 حضرت ابو بکڑ کے قبولِ اسلام کے بارے میں مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔شرح زرقانی میں حضرت ابو بکر کے قبولِ اسلام کا واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن حضرت ابو بکر حکیم بن حزام کے گھر میں تھے۔اس وقت ان کی لونڈی آئی اور کہنے لگی کہ تیری پھوپھی خدیجہ یہ بیان کرتی ہے کہ اس کا خاوند موسیٰ کی مانند بطور نبی بھیجا گیا ہے۔اس پر حضرت ابو بکر وہاں سے چپکے سے نکلے یہاں تک کہ آپ نبی کریم صلی الیوم کے پاس آئے اور اسلام قبول کر لیا۔56 سیرت ابن ہشام کی شرح الروضُ الأنف میں حضرت ابو بکر کی ایک رؤیا اور اسلام لانے کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللی کم کی بعثت سے قبل حضرت ابو بکر نے ایک خواب دیکھا۔انہوں نے دیکھا کہ چاند مکہ میں اتر آیا ہے۔پھر انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر مکہ کی تمام جگہوں اور گھروں میں پھیل گیا ہے۔اس کا ایک ایک ٹکڑا ہر گھر میں داخل ہو گیا ہے اور پھر گویاوہ چاند آپ کی گود میں اکٹھا کر دیا گیا ہے۔حضرت ابو بکر نے بعض اہل کتاب علماء سے اس خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ تعبیر بتائی کہ وہ نبی جس کا انتظار کیا جارہا ہے اس کا زمانہ آگیا ہے اور آپ اس نبی کی پیروی کریں گے اور اس وجہ سے لوگوں میں سب سے زیادہ آپ سعادت مند ہوں گے۔پھر جب رسول اللہ صلی اللی کلم نے حضرت ابو بکر کو دعوت اسلام دی تو انہوں نے توقف نہ کیا۔57 سبل الھدی میں حضرت ابو بکر کے قبول اسلام کے بارے میں ایک روایت یوں بیان ہوئی ہے کہ کعب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق کے اسلام لانے کا سبب آسمان سے نازل ہونے والی ایک وحی تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابو بکر شام میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔