اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 265
حاب بدر جلد 2 265 حضرت ابو بکر صدیق یہ واقعہ جس کی تفصیل آگے آئے گی، اس واقعہ کو جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ بظاہر ناممکن نظر آتا ہے کہ کس طرح انہوں نے سمندر کو عبور کیا۔اس کے بیان میں ہو سکتا ہے کچھ حد تک صداقت بھی ہو اور کچھ مبالغہ سے بھی کام لیا گیا ہو۔بہر حال اگر اس میں کچھ صداقت ہے تو اس کی وضاحت کیا ہے؟ اس کی وضاحت آخر میں بیان کر دوں گا۔بہر حال بیان کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس کشتیاں وغیرہ نہیں تھیں جن پر سوار ہو کر وہ جزیرے تک پہنچتے۔یہ دیکھ کر حضرت علاء بن حضر میں کھڑے ہوئے اور لوگوں کو جمع کر کے ان کے سامنے تقریر کی جس میں کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے شیاطین کے گروہوں کو جمع کر دیا ہے اور جنگ کو سمندر میں دھکیل دیا ہے۔وہ پہلے خشکی میں تمہیں اپنے نشانات دکھا چکا ہے تاکہ ان نشانات کے ذریعہ سمندر میں بھی تم سبق سیکھو۔اپنے دشمن کی طرف چلو۔سمندر کو چیرتے ہوئے اس کی طرف پیش قدمی کرو کیونکہ اللہ نے انہیں تمہارے لیے اکٹھا کیا ہے۔ان سب نے جواب دیا کہ بخدا! ہم ایسا ہی کریں گے اور وادی دُھنا کا معجزہ دیکھنے کے بعد ہم جب تک زندہ ہیں ان لوگوں سے نہیں ڈریں گے۔طبری میں یہ روایت لکھی ہوئی ہے۔وہ معجزہ پہلے بیان ہو چکا ہے جس میں مسلمانوں کے بھاگے ہوئے اونٹ بھی واپس آگئے تھے اور پانی کا چشمہ بھی جاری ہوا تھا۔اس کے بارے میں انہوں نے حوالہ دیا کہ وہ معجزہ ہم دیکھ چکے ہیں تو سمندر کے پانی پہ بھی ہم چلنے کا معجزہ دیکھ لیں گے۔حضرت علاء اور تمام مسلمان اس مقام سے چل کر سمندر کے کنارے آئے۔حضرت علاء اور آپ کے ساتھی خدا کے حضور یہ دعا کر رہے تھے کہ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ يَا كَرِيمُ يَا حَلِيمُ يَا أَحَدُ يَا صَمَدُ يَا حَيُّ يَا مُحْيِيَ الْمَوْتِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ يَا رَبَّنَا۔اے رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! اے کریم ! اے بہت ہی بُردبار ! اے وہ جو اکیلا ہے ! اے بے نیاز !اے وہ جو زندہ ہے جو دوسروں کو زندگی بخشنے والا ہے اور اسے مردوں کو زندہ کرنے والے ! اے وہ جو زندہ ہے اور دوسروں کو زندگی بخشنے والا ہے ! اے وہ جو قائم ہے اور دوسروں کو قائم کرنے والا ہے ! اے ہمارے رب ! تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔بہر حال بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت علاء نے لشکر کے تمام افراد کو کہا کہ یہ دعا کرتے ہوئے سمندر میں اپنی سواریاں ڈال دیں۔چنانچہ تمام مسلمان اپنے سپہ سالار حضرت علاء بن حضرمی کی پیروی کرتے ہوئے ان کے پیچھے اپنے گھوڑوں، گدھوں، اونٹوں اور اپنے خچروں پر سوار ہوئے اور انہیں سمندر میں ڈال دیا اور پھر اللہ کی قدرت ! اس خلیج کو بغیر کسی نقصان کے عبور کر لیا۔ایسا معلوم ہو تا تھا کہ نرم ریت جس پر پانی چھڑ کا گیا ہے اس پر چل رہے ہیں کہ اونٹوں کے پاؤں تک نہ ڈوبے اور سمندر میں مسلمانوں کی کوئی چیز غائب نہ ہوئی۔ایک چھوٹی سی گٹھڑی کے غائب ہونے کا ذکر ہے۔اس کو بھی حضرت علاء اٹھا لائے تھے۔بہر حال ساحل سے دارین تک کا سفر بیان کیا جاتا ہے کہ کشتیوں کے ذریعہ ایک دن اور ایک رات میں طے ہو تا تھا لیکن اس قافلے نے ایک ہی دن کے بہت ہی تھوڑے وقت میں یہ فاصلہ طے کر لیا۔638