اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 243

اصحاب بدر جلد 2 243 حضرت ابو بکر صدیق یمن کے ساتھ ہی کندہ قبیلہ آباد تھا جو حضر موت کے علاقے میں تھا۔اس علاقے کے عامل حضرت زیاد بن لبیڈ تھے۔انہوں نے زکوۃ کے بارے میں سختی کی تو ان کے خلاف بغاوت برپا ہو گئی۔چنانچہ حضرت عکرمہ اور حضرت مہاجر بن ابو امیہ دونوں ان کی مدد کے لیے پہنچے۔اس کی تفصیل جو ہے وہ حضرت مہاجر بن امیہ کے ضمن میں بیان ہو جائے گی۔بہر حال جب حضرت عکرمہ نے مرتدین سے مہمات کے بعد مدینہ کوٹنے کی تیاری شروع کر دی تو ان کے ہمراہ نعمان بن جون کی بیٹی بھی تھی جس سے انہوں نے میدانِ جنگ میں شادی کر لی تھی۔اگر چہ انہیں علم تھا کہ اس سے پہلے اتم تمیم اور مجامعہ کی بیٹی سے شادی کر لینے کے باعث حضرت ابو بکر صدیق حضرت خالد بن ولید پر سخت ناراض ہوئے تھے ، اس کا پہلے تفصیلی ذکر گذشتہ خطبہ میں ہو چکا ہے۔لیکن انہوں نے یعنی حضرت عکرمہ نے اس کے باوجود اس سے شادی کر لی۔اس پر حضرت عکرمہ کی فوج کے کئی افراد نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی۔یہ معاملہ حضرت مہاجر کے سامنے پیش کیا گیا مگر وہ بھی کوئی فیصلہ نہ کر سکے اور یہ تمام حالات حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں لکھ کر ان سے رائے دریافت کی۔حضرت ابو بکر صدیق نے تحریر فرمایا کہ فکرِ مکہ نے شادی کر کے کوئی نامناسب کام نہیں کیا۔بعض لوگ جو ناراض تھے ان کی بہر حال تسلی ہو گئی۔یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ کچھ لوگ جو حضرت عکرمہ سے ناراض ہوئے تھے ان کی ناراضگی کا پس منظر یہ تھا کہ نعمان بن جون نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی علم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی تھی کہ آپ صلی للی کم اس کی بیٹی کو اپنے عقد زوجیت میں قبول فرمالیں لیکن رسول اللہ ص صلی ایم نے انکار فرما دیا اور اس کی بیٹی کو اس کے والد کے ساتھ ہی واپس روانہ کر دیا۔چونکہ رسول اللہ صلی مل کر اس لڑکی کو رو کر چکے تھے اس لیے حضرت عکرمہ کی فوج کے ایک حصہ کا خیال تھا کہ صلی می ریم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے حضرت عکرمہ کو بھی اس لڑکی سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن حضرت ابو بکر صدیق نے یہ دلیل تسلیم نہیں کی۔انہوں نے کہا یہ بالکل غلط ہے اور حضرت رمہ کی شادی کو جائز قرار دیا۔حضرت عکرمہ اپنی بیوی کے ہمراہ مدینہ واپس آگئے اور لشکر کا وہ حصہ بھی جو ان سے خفا ہو کر علیحدہ ہو گیا تھا وہ دوبارہ ان سے آملا۔اسماء بنت نعمان بین جون، جس لڑکی کا ذکر ہے اس کا مختصر تعارف یہ ہے۔حضرت عکر مٹنے جس خاتون سے شادی کی تھی بخاری اور دیگر کتب احادیث میں اس کی بابت روایات مذکور ہیں۔اس خاتون کا نکاح نبی کریم صلی اللہ کم سے ہوا تھا تاہم رخصتی سے قبل ہی اس سے ایسی حرکت سر زد ہوئی کہ نبی کریم صلی ا ہم نے اس خاتون کو واپس اس کے قبیلے میں بھجوا دیا۔ان کے نام سمیت واقعات میں بہت اختلاف بھی ہیں۔بعض نے ان کی شادی حضرت مہاجر بن ابی امیہ سے بھی بیان کی ہے۔بہر حال اس واقعہ کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا ہے کہ جب عرب فتح ہوا اور اسلام پھیلنے لگا تو کندہ قبیلہ کی ایک عورت جس کا نام اسما یا امیمہ تھا اور وہ جونیہ یا بنت الجون بھی کہلاتی تھی۔اس کا بھائی لقمان رسول کریم صلی السلام کی خدمت میں اپنی قوم کی طرف سے بطور وفد حاضر ہوا اور 580