اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 228

اصحاب بدر جلد 2 228 حضرت ابو بکر صدیق پڑی اور لوگ شکست کھا کر بھاگتے ہوئے لشکر کے آخری حصہ کو بھی پار کر گئے۔کعب نے پکارا۔اے انصار ! اے انصار ! اللہ اور رسول کی مدد کو آؤ اور یہ کہتے ہوئے وہ محکم بن طفیل تک پہنچ گئے۔محکم نے ان پر ضرب لگائی اور ان کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا۔اللہ کی قسم ! کعب اس کے باوجود لڑکھڑائے نہیں اور دائیں ہاتھ سے ضرب لگاتے جبکہ بائیں ہاتھ سے خون بہ رہا تھا یہاں تک کہ وہ باغ تک پہنچے اور اس میں داخل ہو گئے۔حاجب بن زید نے اوس کو پکارتے ہوئے کہا کہ اے اشمل اتو ثابت نے کہا کہو اے انصار ! وہ ہمارا اور تمہارا لشکر ہیں تو انہوں نے پکارا اے انصار ! اے انصار ! یہاں تک کہ بنو حنیفہ ان پر ٹوٹ پڑے۔لوگ منتشر ہو گئے۔آپ نے دودشمنوں کو قتل کیا اور خود بھی شہید ہو گئے۔آپ کی جگہ عمیر بن اوس نے لی۔ان پر بھی دشمنوں نے حملہ کر دیا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔پھر ابو عقیل کے بارے میں ہے کہ ابو عقیل انصار کے حلیف تھے۔آپ یمامہ کے روز سب سے پہلے جنگ کے لیے نکلے۔آپ کو ایک تیر لگا جو کندھے کو چیر تا ہوا دل تک پہنچ گیا آپ نے اس تیر کو کھینچ کر باہر نکالا۔آپ اس زخم سے کمزور ہو گئے۔آپ نے معن بن عدی کو کہتے ہوئے سنا کہ اے انصار ! دشمن پر حملے کے لیے لوٹو۔ابو عمر و کہتے ہیں کہ ابو عقیل اپنے لوگوں کی طرف جانے کے لیے اٹھے میں نے پوچھا ابو عقیل آپ کا کیا ارادہ ہے ؟ آپ میں جنگ کی اب ہمت نہیں ہے بہت کمزور ہو گئے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ پکارنے والے نے میرا نام پکار کر آواز لگائی ہے۔میں نے کہا انہوں نے تو صرف انصار کا نام لیا ہے اور ان کی مراد زخمیوں سے نہیں تھی۔ابو عقیل نے جواب دیا کہ میں انصار میں سے ہوں اور میں ضرور جواب دوں گا خواہ دوسرے کمزوری دکھائیں۔ابن عمر کہتے ہیں کہ ابو عقیل ہمت کر کے اٹھے اپنے دائیں ہاتھ میں ننگی تلوار لی پھر پکارنے لگے اے انصار ! یوم حسین کی طرح پلٹ کر حملہ کرو۔وہ سب اکٹھے ہو گئے اور دشمن کے سامنے مسلمانوں کی ڈھال بن گئے یہاں تک کہ انہوں نے دشمن کو باغ میں دھکیل دیا۔وہ آپس میں مل جل گئے یعنی اندر جا کے پھر گھمسان کی جنگ ہوئی اور تلواریں ایک دوسرے پر پڑنے لگیں۔میں نے ابو عقیل کو دیکھا آپ کا زخمی ہاتھ کندھے سے کٹ گیا اور آپ کا وہ بازو زمین پر گر پڑا۔آپ کو چودہ زخم آئے ان سب زخموں کی وجہ سے آپ شہید ہو گئے۔ابن عمر کہتے ہیں کہ میں ابو عقیل کے پاس پہنچا تو وہ زمین پر گرے ہوئے آخری سانسیں لے رہے تھے۔میں نے کہا اے ابو عقیل تو انہوں نے لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے کہا لبیک۔پھر کہا کس کو شکست ہوئی ؟ میں نے بلند آواز سے کہا خوشخبری ہو اللہ کا دشمن مسیلمہ مارا گیا۔انہوں نے الحمد للہ کہتے ہوئے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور جان دے دی۔ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت عمر کو ان کا یہ سارا واقعہ بتایا تو انہوں نے فرمایا اللہ ان پر رحم کرے وہ ہمیشہ شہادت کی آرزور کھتے تھے اور میرے علم کے مطابق وہ رسول کریم صلی ایم کے چند چنیدہ صحابہ میں سے تھے اور ان میں سے قدیم الاسلام تھے۔مجاعه بن مُرارہ بنو حنیفہ کا سردار تھا، اس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔اس نے ایک روز معن بن عدی کا