اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 220
اصحاب بدر جلد 2 220 حضرت ابو بکر صدیق لڑے یہاں تک کہ شہید ہو گئے تو پرچم گر گیا۔سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہما نے پرچم تھام لیا۔اس معرکے میں زید رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کے دست راست اور ایک بہادر شہسوار جس کا نام رجال بن عنفوہ تھا، اس کو قتل کیا اور آپ کو جس نے شہید کیا اس کو ابو مریم حنفی کہتے ہیں۔اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا اور ایک مرتبہ جب حضرت عمرؓ نے اسے کہا کہ تم نے میرے بھائی کو قتل کیا تھا تو اس نے کہا اے امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں زید رضی اللہ عنہ کو شرف بخشا اور ان کے ہاتھوں مجھے ذلیل نہیں کیا۔یعنی وہ شہادت کی موت پاگئے اور اگر اس وقت ان کے ہاتھوں میں مارا جا تاتو ذلت کی موت مرتا۔اب مجھے اسلام کی توفیق مل گئی ہے۔حضرت عمر بن خطاب کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمر بھی جنگ یمامہ میں شامل ہوئے تھے۔وہ جب واپس مدینہ آئے تو حضرت عمرؓ نے اپنے اس شہید ہونے والے بھائی کے غم میں ان کو کہا کہ جب تمہارے چازید شہید ہو گئے تو تم واپس کیوں آگئے اور کیوں اپنا چہرہ مجھ سے چھپانہ لیا؟ جب زید کے قتل کی خبر عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: زید دو نیکیوں میں مجھ سے آگے نکل گیا تھا۔یہ ذکر پہلے بھی ایک دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا اور مجھ سے پہلے شہید ہو گئے۔مالک بن نویرہ کو جب حضرت خالد نے قتل کر دیا تو اس کے بھائی متشم بن نویرہ نے اپنے بھائی مالک کے قتل پر اشعار کہے۔اس کو اپنے بھائی سے بہت محبت تھی اور وہ اکثر ان کی جدائی میں روتارہتا اور شعر کہتا تھا۔ایک مرتبہ جب حضرت عمرؓ سے اس کی ملاقات ہوئی اور اس نے بھائی کا مرثیہ حضرت عمرؓ کو سنایا تو حضرت عمر نے ان سے کہا کہ اگر میں شعر کہنا جانتا تو تمہاری طرح میں بھی اپنے بھائی زیڈ کے لیے شعر کہتا۔اس پر منیم نے عرض کیا: اگر میرے بھائی کی موت ایسی ہوتی جیسی موت آپ کے بھائی کی ہوئی ہے یعنی شہادت کی موت تو میں کبھی بھی اپنے بھائی پر عمگین نہ ہوتا۔عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس خوبصورت انداز میں میرے بھائی کی تعزیت تم نے کی ہے اور کسی نے نہیں کی۔حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ جب باد صبا چلتی ہے تو زید کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔14 بہر حال جنگ کا ذکر ہو رہا ہے۔مسیلمہ کذاب ابھی تک ثابت قدم تھا اور کافروں کی جنگ کا مرکز بنا ہوا تھا۔حضرت خالد نے یہ تجزیہ کیا کہ جب تک مسلیمہ کو قتل نہ کیا جائے گا جنگ ختم نہیں ہو گی کیونکہ اگر کوئی بنو حنیفہ سے قتل ہوتا ہے تو اس کا ان پر یعنی مسیلمہ کے ساتھیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔اس لیے حضرت خالد کیلے ان کے سامنے آئے اور ایک ایک کو انفرادی جنگ کی آواز لگائی اور اپنے شعار کا نعرہ لگایا۔مسلمانوں کا شعار یا محمد اہ! تھا۔پس جو بھی مقابلے کے لیے نکلا حضرت خالد نے اس کو قتل کر دیا۔پھر مسلمانوں نے بڑے جوش سے جنگ کی۔حضرت خالد نے مسیلمہ کو مقابلے کے لیے آواز دی۔اس نے قبول کر لی تو حضرت خالد نے اس پر اس کی خواہش کے مطابق چند چیزیں پیش کیں۔پھر حضرت خالد اس پر حملہ آور ہوئے تو وہ بھاگ گیا اور اس کے ساتھی بھی بھاگ گئے تو حضرت خالد نے لوگوں کو ، مسلمانوں کو پکار کر کہا کہ خبر دار ! 544