اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 219
اصحاب بدر جلد 2 541 219 حضرت ابو بکر صدیق اسی حالت میں دشمن سے لڑو تا کہ ہم دیکھ سکیں کہ کس قبیلہ نے لڑائی میں سب سے اچھا بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ تمام مسلمان اپنے اپنے قبیلہ کے علم تلے لڑیں۔اس سے انہوں نے تمام قبائل میں گویا ایک نئی روح پھونک دی اور اس میں اپنی انفرادیت اور بہادری ثابت کرنے کے لیے ایک جذبہ مسابقت پیدا کر دیا۔مسلمانوں نے بھی ایک دوسرے کو ترغیب دلائی۔چنانچہ اس کی مزید تفصیل اس طرح ملتی ہے کہ حضرت ثابت بن قیس نے کہا اے مسلمانوں کے گر وہ کتنی بڑی ہے وہ چیز جس کا تم نے خود کو عادی بنا دیا ہے، اگر آسانی کا عادی بنایا ہے تو یہ بہت بُری چیز ہے۔صحابہ کرام ایک دوسرے کو جنگ پر ابھارنے لگے اور کہنے لگے کہ اے سورہ بقرہ والو! آج جادو ٹوٹ گیا۔حضرت ثابت بن قیس نے آدھی پنڈلیوں تک زمین کھود لی اور اپنے آپ کو اس میں گاڑ لیا۔آپ انصار کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور آپ نے حنوط مل لیا تھا۔عرب میں یہ دستور تھا کہ بعض لوگ جو اپنے آپ کو بہت بہادر دکھانا چاہتے تھے وہ ایسا کیا کرتے تھے گویا یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ کام جو مرنے کے بعد لوگوں نے میرے ساتھ کرنا تھا وہ میں نے خود اپنے ساتھ کر لیا ہے۔آدھا زمین میں گاڑ لیا گویا میں مرنے کو تیار ہوں اور حنوط چند خوشبو دار چیزوں کا ایک مرکب تھا جو کہ مردے کو غسل د۔کے بعد اس پر ملتے ہیں یا وہ دوائیں جنہیں لاش پر لگانے سے وہ مدتوں گلنے سڑنے سے محفوظ رہتی ہے۔بہر حال روایت ہے کہ انہوں نے کفن باندھ لیا اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے یہاں تک کہ جام شہادت نوش کیا۔2 انصار کا جھنڈا حضرت ثابت بن قیس کے پاس تھا اور مہاجرین کا جھنڈ ا حضرت زید بن خطاب کے پاس۔حضرت زید بن خطاب نے لوگوں سے کہا۔لوگو! مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاؤ، دشمن پر ٹوٹ پڑو اور آگے قدم بڑھاؤ۔پھر فرمایا اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک بات نہیں کروں گا یہاں تک کہ اللہ انہیں شکست دے دے گا یا میں اللہ سے جاملوں گا اور دلیل کے ساتھ اس سے بات کروں گا۔پھر آپے بھی شہید ہو گئے۔543 542 حضرت عمر کے بھائی کی شہادت اور حضرت عمر کا غم دینے حضرت زید بن خطاب کے بارے میں آتا ہے کہ آپ حضرت عمر بن خطاب کے سوتیلے بھائی تھے۔قدیم الاسلام ہیں۔شروع میں اسلام لانے والوں میں سے ہیں۔بدر اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک رہے۔رسول اللہ صلی الیکم نے ہجرت کے بعد آپ اور معن بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے در میان مواخات کرائی تھی اور دونوں ہی یمامہ کی جنگ میں شہید ہو گئے۔جنگ یمامہ میں حضرت خالد نے جب لشکر کو ترتیب دیا تو ایک حصہ کا سپہ سالار حضرت زید بن خطاب کو بنایا اور اسی طرح اس جنگ میں مہاجرین کا پرچم بھی آپ کے ہاتھ میں تھا۔آپؐ پر چم لیے آگے بڑھتے رہے اور بڑی بے جگری سے