اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 210

ناب بدر جلد 2 210 حضرت ابو بکر صدیق بے سے خالد کی حفاظت کے لیے ایک بہت بڑی فوج بہترین اسلحہ سے لیس روانہ کی تاکہ لشکر خالد پر ٹی پیچھے سے حملہ آور نہ ہو سکے۔خالد کا گزر یمامہ کے راستے میں بہت سے بد و قبائل سے ہوا جو مرتد ہو چکے تھے۔ان سے جنگ کر کے انہیں اسلام کی طرف واپس لائے۔راستہ میں سجاخ کی بچی کچھی فوج ملی ان کی خبر لی۔انہیں قتل کیا اور عبرت ناک سزائیں دیں۔پھر یمامہ پر حملہ آور ہوئے۔515 جنگ یمامہ 517 یمامہ یمن کا ایک مشہور شہر ہے۔آج کل یہ علاقہ سعودی عرب میں واقع ہے۔516 یمامہ ایک انتہائی سرسبز اور زرخیز علاقہ تھا۔چنانچہ یمامہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یمامہ خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک شہر تھا اور اس میں مال، درخت اور کھجوریں بکثرت تھیں۔ل ، درخت او یمامہ میں بنو حنیفہ آباد تھے جو سخت جنگجو قوم تھی۔ان کے بارے میں تفسیر قرطبی میں آیت ستُدعَوْنَ إلى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ (17) کہ تم عنقریب ایک ایسی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے جو سخت جنگجو ہو گی۔تم ان سے قتال کرو گے یاوہ مسلمان ہو جائیں گے ، کی تفسیر میں لکھا ہے کہ : حسن کہتے ہیں کہ سخت جنگجو قوم سے مراد فارس اور روم ہیں۔ابن جبیر کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہوازن اور ثقیف کے قبائل ہیں۔زہری اور مقاتل کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو حنیفہ ہیں جو یمامہ میں رہنے والے ہیں اور مسیلمہ کے ساتھی تھے۔رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ ہم یہ آیت پڑھتے تھے لیکن ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ جنگجو قوم کون ہے۔یہاں تک کہ حضرت ابو بکر نے ہمیں بنو حنیفہ سے قتال کے لیے بلایا تو ہمیں پتہ چلا کہ ان سے مراد یہ قوم ہے۔518 مسیلمہ کذاب کا مدینہ میں آنا جب رسول اللہ صلی الم نے 17 ہجری کی ابتدا میں یا بعض کے نزدیک 16 ہجری میں مختلف ممالک کے بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے تو ایک خط یمامہ کے بادشاہ ہوزہ بن علی اور اہل یمامہ کے نام بھی لکھا جس میں اسے اور یمامہ والوں کو اسلام کی طرف دعوت دی۔جب 19 ہجری میں مختلف وفود مدینہ آئے تو یمامہ سے بنو حنیفہ کا وفد بھی آیا۔اس وفد میں مُجاعہ بن مُرارہ بھی تھے جسے رسول اللہ صلی العلیم نے جاگیر میں ایک غیر آباد زمین عطا فرمائی تھی جس کی اس نے درخواست کی تھی۔اس وفد میں رجال بن عُنْفُوہ بھی تھا اس کے علاوہ مسیلمہ کذاب، تمامہ بن کبیر بن حبیب بھی تھا۔ابن ہشام کے نزدیک اس کا نام مسلیمہ بن ثمامہ تھا اور اس کی کنیت ابو ثمامہ تھی۔بنو حنیفہ کا یہ وفد مدینہ میں انصار کی ایک عورت رنکہ