اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 7
حاب بدر جلد 2 7 حضرت ابو بکر صدیق صحیح بخاری کے شارح علامہ بدر الدین عینی بیان کرتے ہیں کہ مؤرخین وغیرہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کا لقب خلیفہ رسول اللہ تھا۔25 لیکن ظاہر ہے کہ حضرت ابو بکر کا یہ لقب آنحضرت صلی علیہ کرم کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ ہونے کی وجہ سے دیا گیا تھا۔اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے آنحضرت صلی علیم کے زمانے کا یہ لقب ہے۔بعد کی بات ہے۔لوگوں نے نام رکھایا آپ نے خود اپنے لیے پسند کیا۔۔ایک یہ بھی لقب ہے۔آوان کا معنی ہے بہت ہی بردبار اور نرم دل۔طبقات کبری میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر کو ان کی نرمی اور رحمت کی وجہ سے آواۃ کہا جاتا تھا۔6 آواه منيب 26 آواه منیب کا مطلب ہے بہت ہی بُردبار، نرم دل اور جھکنے والا۔طبقات کبریٰ میں ہے کہ میں نے حضرت علی کو سنا وہ منبر پر کہہ رہے تھے غور سے سنو۔راوی نے کہا حضرت علی کو سنا وہ منبر پر کہہ رہے تھے کہ غور سے سنو کہ حضرت ابو بکر بہت ہی بردبار، نرم دل اور جھکنے والے تھے۔غور سے سنو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کو خیر خواہی عطا کی جس کے نتیجہ میں وہ خیر خواہ ہو گئے۔7 27 أمير الشاكرين یہ بھی ایک لقب کہا جاتا ہے۔آمیر الشاکرین کے معنی ہیں شکر کرنے والوں کا سر دار۔حضرت ابو بکر صدیق کو کثرت شکر کی وجہ سے امیر الشاکرین کہا جاتا تھا۔عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کو امیر الشاکرین کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔28 ثانِي اثْنَيْنِ یہ بھی ایک لقب کہا جاتا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق کو اللہ تعالیٰ نے ثانِيَ اثْنَيْنِ کے لقب سے پکارا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ إِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَانْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ (40) کہ اگر تم اس رسول کی مدد نہ بھی کرو تو اللہ تعالیٰ پہلے بھی اس کی مدد کر چکا ہے جب اسے ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا وطن سے نکال دیا تھا اس حال میں کہ وہ دو میں سے ایک تھا جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ”اللہ نے تکلیف دہ وقت اور مشکل حالات میں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آپ کے ذریعہ تسلی فرمائی اور الصدیق کے نام اور نبی ثقلین کے قرب مخصوص فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثانی اثنین کی خلعت فاخرہ سے فیضیاب فرمایا اور اپنے خاص