اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 194
صحاب بدر جلد 2 194 حضرت ابو بکر صدیق تمہیں بتاتا ہوں کہ کیا نتیجہ نکلنے والا ہے جبکہ لوگ قتال میں مصروف تھے۔جب عیینہ کو لڑائی میں تکلیف اٹھانا پڑی اور اس کا شدید نقصان ہوا تو وہ طلیحہ کے پاس آیا اور کہا کیا ابھی تک جبرائیل تمہارے پاس نہیں آئے ؟ جنگ میں تو مار پڑ رہی ہے تم کہتے ہو مجھے الہام ہوتے ہیں، وحی ہوتی ہے اور جبرائیل مجھے بتائیں گے کیا ہونا ہے تو بتاؤ بھی تک کچھ نتیجہ نہیں نکلا؟ جبرائیل آئے نہیں ؟ اس نے کہا نہیں۔عیینہ واپس گیا پھر لڑائی میں مصروف ہو گیا۔جب اس کو دوبارہ لڑائی کی شدت نے پریشان کر دیا تو وہ پھر طلیحہ کے پاس آیا اور کہا کہ تمہارا بر اہو کیا جبرائیل ابھی تک تمہارے پاس نہیں آئے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم نہیں آئے۔عیینہ نے قسم کھاتے ہوئے کہا کب آئیں گے ؟ ہمارا تو کام تمام ہوا چاہتا ہے۔وہ پھر میدانِ جنگ میں پلٹ کر لڑنے لگا اور اب جب پھر اسے ناکامی ہوئی تو وہ پھر طلیحہ کے پاس گیا اور پوچھا کیا جبرائیل تمہارے پاس ابھی تک نہیں آئے ؟ طلیحہ نے کہا ہاں آئے ہیں۔عیینہ نے پوچھا پھر جبرائیل نے کیا کہا؟ طلیحہ نے کہا انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ تیری چکی بھی ان کی چکی کی طرح ہو گی اور ایک ایسا واقعہ ہو گا، تیرا ایسا بول بالا ہو گا کہ جو تم کبھی بھلا نہیں سکو گے۔عیینہ نے یہ سنا تو اپنے دل میں کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ عنقریب ایسے واقعات پیش آئیں گے جنہیں تم بدل نہیں سکو گے یا بھلا نہیں سکو گے۔پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور اس قوم سے کہا کہ اے بنو فزارہ! بخدا یہ طلیحہ کذاب ہے۔پس تم لوگ واپس چلو۔اس پر تمام بنو فزارہ لڑائی سے کنارہ کش ہو گئے اور ان لوگوں کو شکست ہوئی تو وہ بھاگے اور طلیحہ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔اس سے پہلے ہی طلیحہ نے اپنے لیے اپنا گھوڑا اور اپنی بیوی ٹوار کے لیے اونٹ تیار کر رکھا تھا۔وہ کھڑا ہوا اور لپک کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنی بیوی کو سوار کیا پھر اس کے ساتھ بھاگ گیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میں سے جو کوئی بھی اس کی استطاعت رکھتا ہے جیسا میں نے کیا ہے وہ بھی ایسا کرے اور اپنے اہل کو بچائے۔دوڑ جاؤ میدان جنگ سے۔پھر طلیحہ نے محوشیہ کی راہ اختیار کی یہاں تک کہ شام پہنچ گیا۔اس کی جماعت پر اگندہ ہو گئی اور اللہ نے ان میں سے بہتوں کو مار دیا۔بہت سے مارے گئے۔ایک روایت کے مطابق طلیحہ میدان جنگ سے بھاگ کر نفع میں بنو کلب کے پاس مقیم ہو گیا اور وہاں جا کے اسلام لے آیا۔نقع بھی طائف کے اطراف میں مکہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت ابو بکر کی وفات تک وہ بنو کلب میں ہی مقیم رہا۔79 بنو عامر اپنے خاص و عام افراد کے ساتھ اس کے قریب بیٹھے ہوئے تھے اور قبائل سکیم اور ہوازن کا بھی یہی حال تھا۔پھر جب اللہ نے بنو فزارہ اور طلیحہ کو بری طرح شکست دی تو وہ قبائل یہ کہتے ہوئے آئے کہ جس دین سے ہم نکلے تھے ہم پھر اسی میں داخل ہوتے ہیں۔وہ خود ہی آکے اسلام میں شامل ہو گئے اور کہا ہم اللہ اور اس کے رسول صلی علیہ کم پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے جان اور مال کے متعلق اللہ اور اس کے رسول صلی علی ایم کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔480 479