اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 192

صحاب بدر جلد 2 بر سر پیکار ہو جائیں۔192 حضرت ابو بکر صدیق حضرت خالد نے ان کی تجویز مان لی۔حضرت عدی اپنی قوم کے پاس آئے۔اس سے پہلے قبیلہ طے کے لوگ بُز احہ سے اپنی قوم والوں کو واپس بلانے کے لیے آدمی بھیج چکے تھے۔قبیلے کے لوگوں نے طلیحہ کے لشکر میں اپنے آدمیوں کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ فور اواپس آجائیں کیونکہ مسلمانوں نے طلیحہ کے لشکر پر حملہ کرنے سے پہلے ان پر چڑھائی یعنی کے قبیلے پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا ہے۔اس لیے وہ آئیں اور اس حملہ کو روکیں۔یہ تدبیر انہوں نے چلی۔چنانچہ وہ بطور کمک اپنی قوم کے پاس واپس آگئے۔اگر ایسانہ ہو تا تو طلیحہ اور اس کے سا تھی انہیں زندہ نہ چھوڑتے۔پھر حضرت عدی نے حضرت خالد کو آکر اپنے قبیلے کے دوبارہ اسلام لے آنے کی اطلاع دی۔ایک مصنف نے لکھا ہے کہ عدی کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو اسلامی فوج میں شمولیت کی دعوت دی۔بنو گے کی لشکر خالد میں شمولیت دشمن کی پہلی شکست تھی کیونکہ قبیلہ کلے کا شمار جزیرہ عرب کے قوی ترین قبائل میں ہو تا تھا۔دیگر قبائل ان کو اہمیت دیتے تھے۔ان کی طاقت و قوت کا اعتبار تھا۔ان سے خوف کھاتے تھے۔اپنے علاقے میں ان کو عزت اور غلبہ حاصل تھا۔پڑوسی قبائل ان کے حلیف بننے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔476 پھر حضرت خالد نے یہاں سے جدِیلہ کے مقابلے کے خیال سے انشر کی طرف کوچ کیا۔أنشر بھی قبیلہ کے کے ایک چشمہ کا نام ہے۔وہاں اس چشمہ کے ارد گرد آبادی تھی۔حضرت عدی نے ان سے کہا کہ قبیلہ طے کی مثال ایک پرندے کی ہے اور قبیلہ جدیلہ قبیلہ کلے کے دو بازوؤں میں سے ایک بازو ہے۔آپ مجھے چند روز کی مہلت دیں۔شاید اللہ تعالیٰ جدیکہ کو بھی راہ راست پر لے آئے۔بغیر جنگ کے ہی یہ لوگ ٹھیک ہو جائیں جس طرح اس نے غوث یعنی قبیلہ کئے کی دوسری شاخ کو گمراہی سے نکال لیا ہے۔حضرت خالد نے ایسا ہی کیا۔حضرت عدی جدیلہ کے پاس آئے۔حضرت عدی مسلسل ان سے بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت عدی کی بیعت کی اور ان کے اسلام لے آنے کی بشارت حضرت عدی نے حضرت خالد گو آکر دی اور اس قبیلے کے ایک ہزار سواروں کے ساتھ مسلمانوں کے پاس آگئے۔477 طلیحہ اسدی کی طرف روانگی اور حضرت عکاشہ کی شہادت حضرت خالد بن ولید قبیلہ کے کے قبول اسلام کے بعد طلیحہ اسدی کی طرف روانہ ہوئے۔حضرت خالد بن ولید جب دشمن کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے حضرت عُکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم گو دشمن کی خبر لانے کے لیے آگے روانہ کیا۔جب یہ دشمن کے قریب پہنچے تو طلیحہ اور اس کا بھائی سلمہ دیکھنے کے لیے اور دریافت حال کے لیے نکلے۔سلمہ نے حضرت ثابت کو مہلت بھی نہ دی