اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 191

اصحاب بدر جلد 2 191 حضرت ابو بکر صدیق وہاں سے مڑ کر وہ خالد سے سلمی پہاڑ کے اطراف پر آملیں گے۔دوسری روایت سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت ابو بکڑ نے یہ تدبیر اس لیے کی تھی تاکہ جب دشمن کو یہ خبر پہنچے تو وہ مرعوب ہو جائے کہ ایک اور فوج بھی ہے حالانکہ آپ تمام لشکر حضرت خالد کے ہمراہ روانہ فرما چکے تھے۔حضرت خالد روانہ ہوئے۔براہ سے انہوں نے مڑ کر آجاء کا رخ کیا۔اجاء اور سلمی یہ دو پہاڑ ہیں۔سلمی کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے جو سمیراء کے بائیں طرف ہیں۔ایک قول کے مطابق آجاء بنو ئے کا ایک پہاڑ ہے۔قبیلہ طے کو قبول اسلام کی دعوت بہر حال حضرت خالد نے یہ ظاہر کیا کہ وہ خیبر کی طرف جارہے ہیں پھر وہاں سے کھلے کے مقابلہ پر پلٹیں گے۔اس تدبیر سے قبیلہ کلے کے لوگ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور طلیحہ کے پاس جانے سے رک گئے۔حضرت عدی بھی کے کے پاس آئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ ابو الفصیل کی ہر گز اطاعت نہیں کریں گے۔ابو الفصیل سے ان کی مراد حضرت ابو بکر تھے۔فصیل اونٹنی یا گائے کے بچے کو کہتے ہیں جو اپنی ماں سے بچھڑ گیا ہو یا جس کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو۔چونکہ کلمہ ہگر اور کلمہ فصیل دونوں کے معنی اونٹ کے بچے کے ہیں اس لیے بعض لوگ حضرت ابو بکر کو حقارت و توہین کی غرض سے ابو الفصیل یعنی اونٹ کے بچے کا باپ کہتے تھے۔حضرت عدی نے کہا کہ تمہاری جانب ایک ایسا لشکر بڑھا چلا آرہا ہے جو تم پر ہر گزرحم نہ کرے گا اور قتل و غارت کا بازار اس طرح گرم کرے گا کہ کسی بھی شخص کو امان نہ مل سکے گی۔میں نے تمہیں سمجھا دیا آگے تم جانو اور تمہارا کام۔ایک اور روایت کے مطابق انہوں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو یہ بھی کہا کہ پھر اس وقت تم حضرت ابو بکر کو فحل الاكبر کی کنیت سے یاد کرو گے۔محل ہر جانور کے نر کو کہتے ہیں یعنی اب تو تم تمسخر اور حقارت سے ان کو اونٹ کا چھوٹا سا بچہ کہہ رہے ہو پھر تم ان کو مضبوط نر اونٹ کہنے پر مجبور ہو گے۔قبیلہ کلے کے لوگوں نے ان کی باتیں سن کے کہا کہ اچھا تم اس حملہ آور لشکر سے جا کر ملو اور اسے ہم پر حملہ کرنے سے روکو یہاں تک کہ ہم اپنے ان ہم قوم لوگوں کو جو بزاحہ میں ہیں واپس بلا لیں۔ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر ہم طلیحہ کی مخالفت کریں گے جبکہ ہمارے لوگ اس کے قبضہ میں ہیں تو وہ ان سب کو قتل کر دے گا یا ان کو یر غمال کی حیثیت سے قید کر لے گا۔یہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اپنے مخالفین کو وہ پھر چھوڑتا نہیں ہے اور کے قبیلہ کے لوگوں نے بھی کہا کہ کیونکہ ہمارے لوگ وہاں ہیں اس لیے اگر ہم آگئے یا اس کو بھنک پڑ گئی کہ یہ مسلمان ہونے والے ہیں تو یہ قتل کر دے گا۔حضرت عدی نے حضرت خالد کا سُنح مقام میں استقبال کیا۔سُنح بھی مدینہ کے مضافات میں ایک جگہ ہے۔حضرت عدی نے کہا۔خالد ! آپ مجھے تین دن کی مہلت دیں۔پانچ سو جنگجو آپ کے ساتھ اکٹھے ہو جائیں گے جن کے ساتھ مل کر آپ دشمن پر حملہ کریں۔یہ بات اس سے بہتر ہے کہ آپ ان کو جہنم کی آگ میں داخل کریں یعنی کے قبیلے کے لوگ آپ کے ساتھ آجائیں گے اور ان کے ساتھ