اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 182

صحاب بدر جلد 2 182 حضرت ابو بکر صدیق علاقے ان کے سپر د کیے گئے ہیں ان میں وہ ایک دوسرے پر امیر رہیں گے۔یعنی پہلے یمن والے اور دوسرے ان کو۔پھر حضرت ابو بکر نے شرخبيل بن حَسَنَه کو حضرت عکرمہ بن ابو جہل کے پیچھے روانہ کیا اور حکم دیا کہ یمامہ سے فارغ ہو کر قضاعہ کے مقابلہ پر چلے جانا اور مرتدین سے جنگ کے موقع پر تم ہی اپنے لشکر کے امیر ہوگے۔نوواں حضرت طريفه بن حاجز کے لیے جھنڈا باندھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ بنو سلیم اور هوازن کا مقابلہ کریں۔10۔دسواں جھنڈا حضرت سويد بن مقرن " کے لیے باندھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ یمن کے علاقے تہامہ کی طرف جائیں۔11۔اور گیارھواں جھنڈا حضرت علاء رضی اللہ عنہ بن حضرمی کے لیے باندھا اور ان کو بحرین جانے کا علم دیا۔چنانچہ یہ اُمَر ا ذُو القَصَّہ سے اپنی اپنی سمت روانہ ہو گئے۔حضرت ابو بکر نے ہر دستے کے امیر کو حکم دیا کہ جہاں جہاں سے وہ گزریں وہاں کے طاقتور مسلمانوں کو اپنے ساتھ لیں اور بعض طاقتور افراد کو وہیں اپنے علاقے کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑ 460 459 حضرت ابو بکر کی اس تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے ایک مصنف لکھتے ہیں کہ ذُوالقصّہ فوجی مرکز قرار پایا۔یہاں سے منظم اسلامی افواج ارتداد کی تحریک کو کچلنے کے لیے مختلف علاقوں کی طرف روانہ ہوئیں۔حضرت ابو بکر کے منصوبہ سے منفر د عبقریت اور دقیق جغرافیائی تجربہ کا پتہ چلتا ہے۔دستوں کی تقسیم اور ان کے مواقع کی تحدید سے واضح ہوتا ہے کہ ابو بکر جغرافیہ کا دقیق علم رکھتے تھے اور زمین کے نشانات اور انسانی آبادیوں اور جزیرۃ العرب کے راستوں سے بخوبی واقف تھے۔گویا کہ جزیرہ عرب مجسم شکل میں آپ کی آنکھوں کے سامنے تھا جیسا کہ دورِ حاضر میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس مراکز قیادت میں ہوتا ہے۔جو شخص بھی لشکروں کو روانہ کرنے ان کی جہت کا تعین کرنے، تفرق کے بعد اجتماع اور دوبارہ مجتمع ہونے کے لیے تفرق میں غور و فکر کرے گا اس کو یہ اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ یہ منصوبہ بندی پورے جزیرہ عرب پر مثالی اور صحیح انداز سے محیط تھی اور ان لشکروں کے ساتھ رابطہ بھی انتہائی دقیق تھا۔ابو بکر کو ہمہ وقت اس کا پتار ہتا تھا کہ فوج کہاں ہے۔اس کے تحرکات اور جملہ امور سے بخوبی واقف رہتے تھے اور یہ بھی پتار ہتا تھا کہ ان کو کیا کامیابی ہوئی اور کل کو کیا پروگرام ہے؟ مراسلات انتہائی دقیق اور تیز ہوا کرتے تھے اور میدان قتال سے خبریں برابر مدینه مرکز قیادت میں حضرت ابو بکر کو پہنچتی رہتی تھیں۔پوری فوج سے برابر رابطہ قائم رہتا تھا۔مرکز قیادت اور میدانِ قتال کے درمیان فوجی خبر رسانی میں ابوخَيْقمه انصاری، سلمه بن سلامه، ابوبرزہ اسلمی اور سلمه بن وقش نے نمایاں حیثیت حاصل کی۔جن لشکروں کو ابو بکر نے