اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 172
صحاب بدر جلد 2 172 حضرت ابو بکر صدیق اسی طرح منافقین کے متعلق پوری سورۃ المنافقین نازل ہوئی۔اس میں فرمایا اِتَّخَذُوا أَيْمَانَهُم جُنَّةً فَصَةٌ وَا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطَبعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ (المنافقون: 3-4) انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔پس وہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔یقیناً بہت بُرا ہے جو وہ عمل کرتے ہیں۔یہ اس لیے ہے کہ وہ ایمان لائے پھر انکار کر دیا تو ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی پس وہ سمجھ نہیں رہے۔یہاں بھی ان لوگوں کے ایمان لانے اور اس کے بعد پھر کفر اختیار کرنے کا ذکر کیا ہے لیکن کسی قسم کی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی دی گئی۔غرض اسی طرح کی بہت سی آیات ہیں جن میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے کہ جو ایمان لاتے ہیں اور پھر اعلانیہ یا عملی طور پر کفر اختیار کرتے ہیں۔ان لوگوں کو فاسق اور کافر اور مرتد تو کہا گیا ہے لیکن ان کے لیے قتل وغیرہ کی کوئی سزا مقرر نہیں کی۔آنحضرت صلی للی کم مرتد کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔قرآن کریم کے بعد اب اس بارے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جس مبارک وجود پر قرآن کریم اتارا گیا، جوكَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ كا مصداق وجود تھا، جس نے اپنے عمل سے قرآن کریم کے احکامات نافذ کرتے ہوئے اپنا نمونہ اور اسوہ پیش کیا اس مبارک ہستی نے مرتد کے حوالے سے کیا فرمایا۔صحیح بخاری میں درج ذیل واقعہ اس امر کا فیصلہ کر دیتا ہے کہ مرتد کے لیے محض ارتداد کے جرم میں کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی۔اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی صلی ا یکم کے پاس آیا اور اسلام قبول کرتے ہوئے آپ سے بیعت کی۔اگلے روز اعرابی کو مدینہ میں بخار ہو گیا وہ آنحضرت صلی الیکم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت مجھے واپس دے دیں۔پھر وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت مجھے واپس دے دیں۔آپ نے تین مرتبہ انکار فرمایا۔اس کا جواب نہیں دیا۔پھر وہ اعرابی مدینہ سے چلا گیا۔اس پر آنحضرت صلی علی کرم نے فرمایا کہ مدینہ ایک بھٹی کی طرح ہے وہ میل کو نکال دیتا ہے اور اصل پاکیزہ چیز کو خالص کر دیتا ہے۔439 حضرت مولانا شیر علی صاحب نے اپنی تصنیف ” قتل مرتد اور اسلام “ ( یہ ان کی ایک کتاب تھی۔یہ کتاب جو تھی یہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی نگرانی میں تیار کی گئی تھی اس) میں یہ حدیث درج کی ہے اور اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اس شخص کا آنحضرت صلی اللہ نیم کے پاس بار بار آنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ مرتد کے لیے قتل کی سزا مقرر نہ تھی ورنہ کبھی آنحضرت صلی علیہ نیم کے پاس نہ آتا بلکہ کوشش کرتا کہ بلا اطلاع چپکے سے نکل جائے اور کسی پر ظاہر نہ کرتا کہ وہ ارتداد اختیار کرناچاہتا ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مرتد کی سزا قتل ارتداد کو روکنے کے لیے شریعت اسلام میں مقرر کی گئی ہے اور اس کی غرض و غایت یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام پر رہنے کے لیے مجبور کیا جائے۔اگر یہ بات سچ ہے تو آنحضرت صلی علیکم نے کیوں اس شخص کو متنبہ نہ کیا جو بار بار آپ کے پاس آرہا تھا اور کیوں یہ نہ کہہ دیا کہ یادر کھو کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے۔اگر تم ارتداد اختیار کرو گے تو تمہیں قتل کیا جائے گا اور جبکہ وہ بار بار ارتداد وہ