اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 155
اصحاب بدر جلد 2 155 حضرت ابو بکر صدیق 408 رائے تھی کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والے لوگوں سے ہر گز نہیں لڑنا چاہیے بلکہ انہیں ساتھ ملا کر مرتدین کے خلاف مصروف کار ہونا چاہیے۔بعض لوگ اس رائے کے مخالف بھی تھے لیکن ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔ایک روایت کے مطابق صحابہ نے حضرت ابو بکر کو مشورہ دیا کہ مانعین زکوۃ کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں اور ان کی تالیف قلب کریں یہاں تک کہ ایمان ان کے دلوں میں متمکن ہو جائے پھر ان سے زکوۃ وصول کی جائے۔حضرت ابو بکر نے اس کو نہ مانا اور انکار کر دیا۔409 410 حضرت ابو بکر اس رائے کے حامی تھے کہ منکرین زکوۃ سے جنگ کر کے بزور ادائے زکوۃ پر مجبور کرنا چاہیے۔اس امر میں ان کی شدت کا یہ عالم تھا کہ بحث کرتے ہوئے پر زور الفاظ میں فرمایا۔واللہ ! اگر منکرین زکوۃ مجھے ایک رستی دینے سے بھی انکار کریں گے جسے وہ رسول اللہ صلی علیم کے زمانے میں ادا کیا کرتے تھے تو بھی میں ان سے جنگ کروں گا۔0 بخاری کی ایک روایت میں اس امر کی تفصیل یوں بیان ہے۔ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے کہا کہ آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِتِ مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ۔مجھے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کریں اور جس نے اس کا اقرار کر لیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان بچالی سوائے کسی حق کی بنا پر اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔تو حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: بخدا! میں ضرور قتال کروں گا اس سے جس نے نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کیا کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے۔بخدا! اگر انہوں نے بکری کا بچہ بھی مجھے نہ دیا جو وہ رسول اللہ صلی میزنم کو ادا کیا کرتے تھے تو میں اس کو روکنے پر ان سے قتال کروں گا۔حضرت عمرؓ نے کہا پس اللہ کی قسم! یہ نہ ہوا مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر کا سینہ کھول دیا۔میں جان گیا کہ یہی حق ہے 411 یعنی حضرت عمر کو بعد میں تسلیم کرنا پڑا کہ حضرت ابو بکر صحیح فرما رہے تھے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے حدیث عَصَمَ مِلَّى مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ کی تشریح بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ کا جملہ نفس مضمون پر اور زیادہ روشنی ڈالتا ہے۔ایک مسلمان شخص لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اگر اسلامی حقوق کی نگہداشت نہیں رکھتا تو وہ بھی قابل مؤاخذہ ہے۔صرف ایمان لا کر وہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔بحق الْإِسْلَام کے دو طرح معنے کئے جا سکتے ہیں۔ایک یہ کہ جہاں اسلامی حقوق کا تعلق ہو ”حق“ مصدر ہے جو جمع کا مفہوم بھی دیتا ہے دوسرے بہ معنی ہیں جہاں اسلام ان مالوں اور جانوں کے لینے کو ضروری قرار دیتا ہو۔حَقَّ الْأَمْرَ أَثْبَتَهُ وَأَوْجَبَهُ یعنی اس کو ضروری قرار دیا۔یہ متعدی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔افرادِ امت کی سلامتی کا دارومدار حقوق کی ادائیگی ہی پر ہے۔جس طرح ٹیکس کی عدم ادائیگی 412❝