اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 149

اصحاب بدر جلد 2 149 حضرت ابو بکر صدیق خلاف نبرد آزما ہوں اور خلیفہ رسول اور حرم رسول اور مسلمانوں کو مشرکین کے حملوں سے محفو ظ ر کھیں۔حضرت اسامہ کے لشکر میں شامل کچھ انصار نے حضرت عمرؓ سے یہ بھی کہا کہ خلیفہ رسول اللہ صلی علیکم حضرت ابو بکر اگر لشکر کو روانہ کرنے پر ہی مصر ہوں تو انہیں ہماری طرف سے یہ پیغام دیں اور یہ مطالبہ کریں کہ وہ کسی ایسے شخص کو لشکر کا سر دار مقرر کر دیں جو عمر میں اسامہ سے بڑا ہو۔حضرت عمر حضرت اسامہ کے کہنے پر حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں بتایا جو حضرت اسامہ نے کہا تھا۔اس پر حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اگر کتے اور بھیڑیے بھی مجھے نوچ کر کھائیں تو میں اسی طرح اس فیصلے کو نافذ کروں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی الیم نے حکم فرمایا تھا اور میں اس فیصلے کو تبدیل نہیں کروں گا جو فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔اگر ان بستیوں میں میرے سوا کوئی ایک بھی باقی نہ بچا تب بھی میں اس فیصلے کو نافذ کر کے رہوں گا۔پھر حضرت عمرؓ نے کہا کہ انصار کسی ایسے شخص کو امیر کے طور پر چاہتے ہیں جو اسامہ سے عمر میں بڑا ہو۔اس پر حضرت ابو بکر جو بیٹھے ہوئے تھے کھڑے ہوئے اور حضرت عمر کی داڑھی سے پکڑا اور کہا اے ابن خطاب ! تیری ماں تجھے کھوئے !!رسول اللہ صلی اللی کرم نے اسے امیر مقرر کیا ہے اور تم مجھے کہتے ہو کہ میں اسے امارت سے ہٹا دوں۔87 حضرت عمر لوگوں کی طرف واپس پہنچے تو لوگوں نے آپ سے کہا کہ کیا بنا؟ تو حضرت عمرؓ نے ان سے کہا: چلے جاؤ۔تمہاری مائیں تمہیں کھوئیں۔یعنی ان کو برا بھلا کہا۔ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ آج تمہاری وجہ سے رسول اللہ صلی اللی ریم کے خلیفہ کی طرف سے مجھے کوئی بھلائی نہیں ملی۔یعنی انہوں نے میری باتوں کا بہت بُرا منایا۔جب حضرت ابو بکر کے حکم کے مطابق جیش اسامہ مجرف کے مقام پر اکٹھا ہو گیا تو حضرت ابو بکر وہاں خود تشریف لے گئے اور آپ نے وہاں جا کر لشکر کا جائزہ 388 لیا اور اس کو ترتیب دیا۔روانگی کے وقت کا منظر بھی بہت حیرت انگیز تھا۔اس وقت حضرت اسامہ سوار تھے جبکہ حضرت ابو بکر پیدل چل رہے تھے۔حضرت اسامہ نے عرض کیا اے رسول اللہ صلی علیم کے خلیفہ ! یا تو آپ سوار ہو جائیں یا پھر میں بھی نیچے اتر تاہوں۔اس پر حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا۔بخدا نہ ہی تم نیچے اتر و گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گا اور مجھے کیا ہے کہ میں اپنے دونوں پیر اللہ کی راہ میں ایک گھڑی کے لیے گرد آلود نہ کر لوں کیونکہ غزوہ میں شامل ہونے والا جب کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کے لیے اس کے بدلے میں سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کو سات سو درجے بلندی دی جاتی ہے اور اس کی سات سو برائیاں ختم کی جاتی 389 390 پھر حضرت ابو بکر نے حضرت اسامہ سے کہا اگر آپ مناسب سمجھیں تو حضرت عمر کو میرے کاموں میں معاونت کے لیے چھوڑ دیں تو حضرت اسامہ نے اجازت دے دی۔اس کے بعد حضرت عمر جب بھی حضرت اسامہ سے ملتے یہاں تک کہ خلیفہ منتخب ہونے کے بعد