اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 119
اصحاب بدر جلد 2 119 حضرت ابو بکر صدیق ساتھ آنحضرت صلی سلیم نے کوئی معاہدہ کیا ہے اس کی مدت پوری کی جائے گی اور لوگوں کو اس اعلان کے دن سے چار ماہ تک کی مہلت دی تاکہ ہر قوم اپنے امن کی جگہوں یا اپنے علاقوں کی طرف لوٹ جائیں۔پھر نہ کسی مشرک کے لیے کوئی عہد یا معاہدہ ہو گا اور نہ ذمہ داری سوائے اس عہد یا معاہدے کے جو رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس کسی مدت تک ہو۔یعنی جس معاہدے کی مدت ابھی باقی ہو تو اس معاہدے کا جو آنحضرت صلی علیہ کم سے ہوا تھا اس کی مقررہ مدت تک پاس کیا جائے گا۔ان معاہدوں کے علاوہ کوئی نیا معاہدہ نہیں ہو گا۔پھر اس سال کے بعد نہ کسی مشرک نے حج کیا اور نہ کسی نے ننگے بدن طواف کیا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر عرفہ کے مقام میں آئے اور آپ نے لوگوں کو خطاب کیا۔جب آپ خطاب کر چکے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔اے علی ! کھڑے ہو کر رسول اللہ صل اللی کم کا پیغام پہنچاؤ۔پس میں کھڑا ہو گیا اور میں نے انہیں سورہ براءت کی چالیس آیات سنائیں۔پھر وہ دونوں حضرت علیؓ اور حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی ایم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔323 حجۃ الوداع رسول الله صلى للهم حجة الوداع کے لیے دس ہجری جمعرات کے دن جبکہ ذیقعدہ کے چھ دن باقی تھے روانہ ہوئے۔ایک قول کے مطابق آپ ہفتہ کے دن روانہ ہوئے۔324 بہر حال اس میں ایک روایت آتی ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ جب آنحضرت صلی المیہ ہم نے حجۃ الوداع کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کی یارسول اللہ ! میرے پاس ایک اونٹ ہے ہم اس پر اپنا زادِ راہ لاد لیتے ہیں۔رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: ایسا ہی کر لو۔چنانچہ رسول اللہ صلی علیہ کم اور حضرت ابو بکر دونوں کے سامان کے لیے ایک ہی اونٹ تھا۔آپ صلی علیہ ہم نے کچھ آٹے اور کچھ ستو کا زاد راہ بنوایا اور حضرت ابو بکر کے اونٹ پر رکھ دیا۔حضرت ابو بکر نے اسے اپنے غلام کے سپر د کر دیا۔حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللیل مل کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔جب ہم عرج مقام پر تھے تو رسول اللہ صل اللی کم سواری سے اترے اور ہم بھی اترے تو عائشہ رسول اللہ صلی علی نام کے ایک پہلو میں بیٹھ گئیں اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھ گئی۔اور رسول اللہ صلی ا یکم اور حضرت ابو بکر نکا سامان اکٹھا ایک اونٹ پر تھا جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے جو حضرت ابو بکر کے غلام کے پاس تھا۔حضرت ابو بکر انتظار کرنے لگے کہ وہ آجائے۔وہ غلام آگیا مگر اس کا اونٹ اس کے ساتھ نہ تھا۔حضرت ابو بکرؓ نے کہا تمہارا اونٹ کہاں ہے۔اس نے کہا گذشتہ رات سے میں اسے گم کر چکا ہوں۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ ایک ہی اونٹ تھاوہ بھی تم نے گم کر دیا تو حضرت ابو بکر سے مارنے کے لیے اٹھے اور رسول اللہ صلی الیم تبسم الله سة