اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 118

اصحاب بدر جلد 2 118 حضرت ابو بکر صدیق بھی ادا کرتے ہیں اور خانہ کعبہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے ہیں۔یہ بات سن کے رسول اللہ صلی علیم نے اس سال حج کا ارادہ ترک کر دیا اور حضرت ابو بکر صدیق کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا۔321 حضرت ابو بکر صدیق تین سو صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے اور آنحضرت صلی الہ وسلم نے ان کے ساتھ ہیں قربانی کے جانور بھیجے جن کے گلے میں خود آنحضرت صلی الی یکم نے اپنے ہاتھ سے قربانی کی علامت کے طور پر گانیاں پہنائیں اور نشان لگائے اور حضرت ابو بکر خود اپنے ساتھ پانچ قربانی کے جانور لے کر گئے۔322 روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی نے سورہ توبہ کی ابتدائی آیات کا حج کے موقع پر اعلان کیا۔یہ روایت اس طرح ہے کہ ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے کہ جب سورۃ براۃ، (سورۃ توبہ ) رسول اللہ صلی میزنیم پر نازل ہوئی تو آپ صلی یی کم حضرت ابو بکر کو بطور امیر حج بھجواچکے تھے۔آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ ! اگر آپ یہ سورت حضرت ابو بکر کی طرف بھیج دیں تاکہ وہاں وہ پڑھیں تو آپ صلی میں کم نے فرمایا کہ میرے اہل بیت میں سے کسی شخص کے سوا کوئی یہ فریضہ میری طرف سے ادا نہیں کر سکتا۔پھر آپ نے حضرت علی کو بلوایا اور انہیں فرمایا کہ سورت توبہ کے آغاز میں جو بیان ہو ا ہے اس کو لے جاؤ اور قربانی کے دن جب لوگ منی میں اکٹھے ہوں تو اس میں اعلان کر دو کہ جنت میں کوئی کافر داخل نہیں ہو گا اور اس سال کے بعد کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت نہ ہو گی، نہ ہی کسی کو ننگے بدن بیت اللہ کے طواف کی اجازت ہو گی اور جس کسی کے ہاتھ آنحضرت صلی للی کلیم نے کوئی معاہدہ کیا ہے اس کی مدت پوری کی جائے گی۔حضرت علی بن ابو طالب رسول اللہ صلی علیکم کی اونٹنی عضباء پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔راستے میں ہی حضرت ابو بکر سے جاملے۔حضرت ابو بکر سے حضرت علی کی ملاقات عرج یا وادی ضبنان میں ہوئی۔عرج مدینہ اور مکہ کے درمیانی راستہ کی ایک گھائی ہے یہاں قافلے پڑاؤ کرتے ہیں اور ضبجنان مدینہ کے راستے پر مکہ کے نواح میں ایک مقام ہے جو مکہ سے پچیس میل کے فاصلہ پر ہے۔بہر حال جب حضرت ابو بکڑ نے حضرت علی کو راستے میں دیکھا تو حضرت ابو بکر نے فوراً فرمایا کہ آپ کو امیر مقرر کیا گیا ہے یا آپ میرے ماتحت ہوں گے؟ یہ عاجزی کی انتہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے بھیجا ہے تو کیا اب آپ امیر ہوں گے یا میرے ماتحت اس قافلے میں چلیں گے کام کریں گے۔حضرت علی نے کہا کہ میں آپ کے ماتحت ہوں گا۔پھر دونوں روانہ ہوئے۔حضرت ابو بکڑ نے لوگوں کی حج کے امور پر نگرانی کی اور اس سال اہل عرب نے اپنی انہی جگہوں پر پڑاؤ کیا ہو اتھا جہاں وہ زمانہ جاہلیت میں پڑاؤ کیا کرتے تھے۔جب قربانی کا دن آیا تو حضرت علی کھڑے ہوئے اور لوگوں میں اُس بات کا اعلان کیا جس کار سول اللہ صلیالم نے ارشاد فرمایا تھا اور کہا اے لوگو! جنت میں کوئی کافر داخل نہیں ہو گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا نہ ہی کسی کو ننگے بدن بیت اللہ کے طواف کی اجازت ہو گی اور جس کسی کے