اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 109
باب بدر جلد 2 109 حضرت ابو بکر صدیق جائے۔چنانچہ لشکر جمع ہونے شروع ہوئے اور کئی ہزار آدمیوں کا لشکر تیار ہو گیا اور آپ لڑنے کے لیے تشریف لے گئے۔جب رسول کریم صلی میں کم نکلے تو آپ نے فرمایا اے میرے خدا! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو مکہ والوں کے کانوں کو بہرا کر دے اور ان کے جاسوسوں کو اندھا کر دے۔نہ وہ ہمیں دیکھیں اور نہ ان کے کانوں تک ہماری کوئی بات پہنچے۔چنانچہ آپ نکلے مدینہ میں سینکڑوں منافق موجود تھے لیکن دس ہزار کا لشکر مدینہ سے نکلتا ہے اور کوئی اطلاع تک مکہ میں نہیں پہنچتی۔290 یہ اللہ تعالیٰ کے کام تھے۔طبقات ابن سعد میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کا قافلہ عشاء کے وقت من الظهران میں اترا۔مرز الظہر ان مکہ سے مدینہ کے راستے پر پچیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔یعنی پچیس کلو میٹر مکہ سے دور تھا۔آپ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا تو انہوں نے دس ہزار جگہ آگ روشن کی۔قریش کو آپ کی روانگی کی خبر نہیں پہنچی۔وہ غمگین تھے کیونکہ انہیں یہ ڈر تھا آپ ان سے جنگ کریں گے یہ یہ خیال تھا ان کا۔خبر تو نہیں پہنچی لیکن یہ خیال تھا کہ قریش کی جنگ اب ضرور ہو گی۔اس بات کا ان کو غم تھا۔بہر حال لگتا ہے یہاں غلط لکھا گیا ہے روانگی کی خبر ان کو پہنچ گئی۔یہاں پہنچنے کے بعد خبر پہنچی ہو گی۔تو جب یہ قافلہ وہاں ٹھہر گیا اور دس ہزار جگہوں پر آگ روشن ہو گئی تو قریش نے ابوسفیان کو بھیجا کہ وہ حالات معلوم کرے۔انہوں نے کہا اگر تو محمد صلی اللی علم سے ملے تو ہمارے لیے ان سے امان لے لینا۔ابو سفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء روانہ ہوئے۔جب انہوں نے لشکر دیکھا تو سخت پریشان ہو گئے۔رسول اللہ صلی علیم نے اس رات پہرے پر حضرت عمرؓ کو نگران مقرر فرمایا۔حضرت عباس نے ابوسفیان کی آواز سنی تو پکار کر کہا کہ ابو حنظلہ ، یہ ابو سفیان کی کنیت ہے ، اس نے کہا لبیک۔یہ تمہارے پیچھے کیا ہے ؟ ابوسفیان نے حضرت عباس سے پوچھا کہ تمہارے پیچھے کیا ہے ؟ انہوں نے کہا یہ دس ہزار کے ساتھ رسول اللہ صلی علیہ کم ہیں۔حضرت عباس نے اسے پناہ دی۔اسے اور اس کے دونوں ساتھیوں کو آنحضور صلی الم کی خدمت میں پیش کیا۔تینوں اسلام لے آئے۔291 فتح مکہ اور حضرت ابو بکر کی ایک خواب تاریخ میں فتح مکہ کے حوالے سے حضرت ابو بکر کی ایک خواب کا ذکر ملتا ہے۔چنانچہ بیان ہوا ہے کہ حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی علی کم کی خدمت میں اپنا خواب بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مجھے خواب دکھایا گیا ہے اور میں نے خواب میں آپ کو دیکھا کہ ہم مکہ کے قریب ہو گئے ہیں۔پس ایک کتیا بھونکتے ہوئے ہماری طرف آئی پھر جب ہم اس کے قریب ہوئے تو وہ پشت کے بل لیٹ گئی اور اس سے دودھ بہنے لگا۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ ان کا شر دور ہو گیا اور نفع قریب ہو گیا۔وہ تمہاری قرابت داری کا واسطہ دے کر تمہاری پناہ میں آئیں گے اور تم ان میں سے بعض سے ملنے والے ہو۔یہ تعبیر فرمائی آنحضرت صلی ہی ہم نے۔آپ نے فرمایا کہ پس اگر تم ابو سفیان کو پاؤ تو اسے قتل نہ کرنا۔چنانچہ مسلمانوں