اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page xii
صحاب بدر جلد 2 xii دیباچه حفاظت کرنے والوں میں صف اول میں تھے۔وہ کبھی دشمن کی طاقت سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ ان کا تمام تر توکل اللہ تعالیٰ کی ذات پر تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا اور محبت کا عہد کیا تو اس کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔اپنے عہد وفا کو نبھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی جنت کی بشارت دی اور ان سے راضی ہونے کا اعلان فرمایا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس غزوہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " یہی وہ جنگ ہے جس کا نام قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرقان رکھا ہے اور یہی وہ جنگ ہے جس میں عرب کے وہ سردار جو اس دعوی کے ساتھ گھر سے چلے تھے کہ اسلام کا نام ہمیشہ کے لئے مٹا دیں گے خود مٹ گئے اور ایسے مٹے کہ آج ان کا نام لیوا کوئی باقی نہیں۔" (سیرة النبی صلی ال ، انوار العلوم جلد 1 صفحہ 610) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب اور ملفوظات میں دو بدری ادوار کا ذکر فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: اب اس چودھویں صدی میں وہی حالت ہو رہی ہے جو بدر کے موقع پر ہو گئی تھی جس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ ( آل عمران : 124)۔اس آیت میں بھی دراصل ایک پیشگوئی مرکوز تھی یعنی جب چودھویں صدی میں اسلام ضعیف اور ناتوان ہو جائے گا اس وقت اللہ تعالیٰ اس وعدہ حفاظت کے موافق اس کی نصرت کرے گا۔" لیکچر لدھیانہ ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 280) پھر آپ فرماتے ہیں " اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے بدر ہی میں مدد کی تھی اور وہ مدد اذلة کی مدد تھی جس وقت تین سو تیرہ آدمی صرف میدان میں آئے تھے اور کل تین لکڑی کی تلواریں تھیں اور ان تین سو تیرہ میں زیادہ تر چھوٹے بچے تھے۔اس سے زیادہ کمزوری کی حالت کیا ہوگی اور دوسری طرف ایک بڑی بھاری جمعیت تھی اور وہ سب کے سب چیدہ چیدہ جنگ آزمودہ اور بڑے بڑے جوان تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ظاہری سامان کچھ نہ تھا۔اس وقت