اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 93
حاب بدر جلد 2 93 حضرت ابو بکر صدیق میں پا با ہر الگ جا کر قضائے حاجت کیا کرتے تھے۔میں اور ام مسطح بنت ابورھم دونوں گئیں۔ہم چل رہی تھیں کہ وہ اپنی اوڑھنی سے انکی اور اس نے کہا مسطح ہلاک ہو گیا۔میں نے اسے کہا کیا ہی بری بات ہے جو تم نے کہی ہے۔کیا تم ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہو جو بدر میں موجود تھا تو اس نے کہا اے بھولی بھالی لڑکی ! کیا آپ نے سنا نہیں جو لوگوں نے کہا۔تب اس نے مجھے افک والوں کی بات بتائی۔اس پر میری بیماری مزید بڑھ گئی۔پھر جب میں اپنے گھر واپس آئی تو رسول اللہ صلی للی کم میرے پاس تشریف لائے اور آپ نے سلام کیا اور آپ نے فرمایا تم کیسی ہو؟ میں نے عرض کیا مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیں۔حضرت عائشہ نے کہا کہ مجھے اجازت دیں کہ والدین کے پاس چلی جاؤں۔میں اس وقت چاہتی تھی کہ میں ان دونوں یعنی اپنے والدین کی طرف سے خبر کا یقینی ہو نا معلوم کروں تو رسول اللہ صلی للی تم نے مجھے اجازت دے دی۔میں اپنے والدین کے پاس آئی تو میں نے اپنی والدہ سے کہا لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ اے میری بیٹی ! اس معاملہ میں اپنی جان پر بوجھ نہ ڈالو۔اللہ کی قسم ! کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کبھی کسی آدمی کے پاس کوئی خوبصورت عورت ہو جس سے وہ محبت کرتا ہو اور اس کی سوکنیں ہوں اور پھر اس کے خلاف باتیں نہ کریں۔میں نے کہا سبحان اللہ ! لوگ ایسی بات کا چرچا کر رہے ہیں۔انہوں نے یعنی حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ میں نے وہ رات اس طرح گزاری کہ صبح ہو گئی اور میرے آنسو نہ تھمتے تھے اور نہ مجھے ذراسی بھی نیند آئی۔پھر صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت اسامہ بن زید کو بلایا۔جب وحی میں تاخیر ہوئی تو آپ صلی علیہ کی ان دونوں سے اپنی بیوی کو چھوڑنے کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتے تھے۔جہاں تک حضرت اسامہ کا تعلق تھا تو انہوں نے مشورہ دیا اس کے مطابق جو وہ جانتے تھے کہ آنحضور صلی اللہ ﷺ کا حضرت عائشہ سے تعلق کیا ہے اور حضرت عائشہ کی حالت کو بھی جانتے ہوں گے کہ نیک پارسا عورت ہیں۔بہر حال حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی بیوی نہیں اور اللہ کی قسم ! ہم سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں جانتے۔اور جہاں تک حضرت علی بن ابو طالب کا تعلق ہے تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپ پر کچھ تنگی نہیں رکھی اور اس کے سوا اور عور تیں بھی بہت ہیں اور اس خادمہ سے پوچھئے وہ آپ سے سچ کہہ دے گی۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے بریرہ کو بلایا اور آپ نے فرمایا اے بریرہ! کیا تم نے اس میں کوئی بات دیکھی جو تمہیں شک میں ڈالے ؟ بریرہ نے عرض کیا نہیں۔اس کی قسم جس نے صل المی کم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے ان میں اس سے زیادہ کوئی اور بات نہیں دیکھی جس کو میں عیب سمجھوں کہ وہ کم عمر لڑکی ہے، گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہے۔بکری آتی ہے اور وہ اسے کھا جاتی ہے تو رسول اللہ صلی علیم اسی روز کھڑے ہوئے اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں معذرت چاہی اور رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: کون مجھے اس شخص کے بارے میں معذور سمجھے گا جس کی ایذارسانی میرے اہل سة