اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 72
باب بدر جلد 2 72 12 حضرت ابو بکر صدیق نبی اکرم صلی کم اور حضرت ابو بکر کے اہل و عیال کا مدینہ تشریف لانا آنحضرت صلی علیم کے اپنے اور حضرت ابو بکر کے اہل و عیال کو مدینہ بلانے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”کچھ عرصہ کے بعد آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام “ یعنی مدینہ آنے کے کچھ عرصہ بعد زید کو مکہ میں بھیجوایا کہ وہ آپ کے اہل وعیال کو لے آئے۔چونکہ مکہ والے اس اچانک ہجرت کی وجہ سے کچھ گھبر اگئے تھے اس لئے کچھ عرصہ تک مظالم کا سلسلہ بند رہا اور اسی گھبراہٹ کی وجہ سے وہ رسول کریم صلی الی یکم اور حضرت ابو بکر کے خاندان کے مکہ چھوڑنے میں مزاحم نہیں ہوئے اور یہ لوگ خیریت سے مدینہ پہنچ گئے۔اس عرصہ میں جو زمین رسول اللہ صلی علیکم نے خریدی تھی سب سے پہلے وہاں آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے مکان بنوائے۔198" حضرت ابو بکر کا مدینہ میں قیام تھی۔مدینہ ہجرت کے بعد حضرت ابو بکر صدیق سنح میں حضرت حبیب بن اساف کے ہاں ٹھہر۔سنح مدینہ کے مضافات میں ایک جگہ ہے جو مسجد نبوی سے تقریباً دو میل کے فاصلہ پر حضرت حبیب کا تعلق بنو حارِث بن خَزرج سے تھا۔ایک قول کے مطابق حضرت ابو بکر کی رہائش حضرت خارجہ بن زید کے ہاں تھی۔199 بعض روایات کے مطابق حضرت ابو بکر نے سُنح میں ہی اپنا مکان اور کپڑا بنانے کا کارخانہ بنالیا 201 تھا۔200 اس سے کاروبار کیا۔مسجد نبوی کی تعمیر اور حضرت ابو بکر مدینہ پہنچنے کے بعد رسول اکرم صلی الی تم نے سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کی طرف توجہ فرمائی۔چنانچہ اس بارے میں سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح لکھا ہے کہ : مدینہ کے قیام کا سب سے پہلا کام مسجد نبوی کی تعمیر تھا۔جس جگہ آپ کی اونٹنی آکر بیٹھی تھی وہ مدینہ کے دو مسلمان بچوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی جو حضرت اسعد بن زرارہ کی نگرانی میں رہتے تھے۔یہ ایک افتادہ جگہ تھی جس کے ایک حصہ میں کہیں کہیں کھجوروں کے درخت تھے اور دوسرے حصہ میں کچھ کھنڈرات وغیرہ تھے۔آنحضرت صلی ای کم نے اسے مسجد اور اپنے حجرات کی تعمیر کے لیے پسند فرمایا اور دس دینار میں ( یعنی اس وقت اس زمانے میں اس کی جو قیمت لگی وہ آپ نے یہاں روپوں میں لگائی تھی) بہر حال دس دینار میں زمین خرید لی گئی اور جگہ کو ہموار کر کے اور درختوں کو کاٹ کر مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہو گئی۔آنحضرت صلی علیہم نے خود دعا مانگتے ہوئے سنگ بنیا د ر کھا اور جیسا کہ قبا کی مسجد میں ہوا تھا صحابہ نے معماروں اور مزدوروں کا کام کیا جس میں کبھی کبھی آنحضرت صلی ال یکم خود بھی شرکت