اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 70

اصحاب بدر جلد 2 70 حضرت ابو بکر صدیق 193 راستے میں جب بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہنچے تو جمعہ کا وقت ہو گیا۔آپ صلی علیہم نے مسلمانوں کے ہمراہ وادی رانوناء کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی اور ان کی تعداد ایک سو تھی۔وادی رانوناء مدینہ کے جنوب میں واقع ہے۔جب آپ نے اس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی تو اس وقت سے اس مسجد کو مسجد الجمعہ کہا جانے لگا۔یہ پہلا جمعہ تھا جو آپ نے مدینہ میں پڑھا تھا۔ہو سکتا ہے یہ مسجد بعد میں وہاں بنائی گئی ہو۔اس جگہ جمعہ پڑھنے کی وجہ سے اس کا نام رکھا گیا ہو۔پھر ذکر آتا ہے کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد رسول اللہ صلی علی یکم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔اس وقت آپ نے حضرت ابو بکر کو پیچھے بٹھایا ہو اتھا۔194 انعام کے لالچ میں بہت سے لوگوں نے آپ کا پیچھا کرنے کی کوشش کی۔الله سة ایک واقعہ کتب تاریخ میں یوں بیان ہوا ہے۔بريدة بن حصیب بیان کرتے ہیں کہ جب قریش نے اس کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا جو نبی کریم صلی میریم کا ارادہ کرے یعنی آپ کو زندہ یا مردہ پکڑ کے لائے تو مجھے بھی لالچ نے آمادہ کیا تو میں بنو سھم کے ستر لوگوں کے ساتھ سوار ہو کر نکلا اور آپ کو ملا۔آپ نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا کہ بُریدہ۔اس پر آپ صلی علیکم حضرت ابو بکر کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے ابو بکر ! ہمارا معاملہ ٹھنڈا اور درست ہو گیا۔پھر آپ نے پوچھا تم کس قبیلہ سے ہو ؟ میں نے کہا قبیلہ اسلم سے۔آپ نے فرمایا سلامتی میں رہے۔پھر پوچھا کس کی اولاد سے ؟ میں نے کہا بنو سہم کی۔آپ نے فرمایا اے ابو بکر تمہارا سهم یعنی تمہارا نصیبہ نکل آیا۔پھر بُریدہ نے نبی کریم صلی علیکم سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ آپ صلی علیہ ہم نے فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ ، اللہ کا رسول ہوں۔اس پر بریدہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔پھر بریدہ نے اسلام قبول کر لیا اور سب لوگوں نے بھی جو اس کے ساتھ تھے۔بُریدہ نے کہا: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔بنو سنہم نے دلی خوشی سے بغیر کسی جبر کے اسلام قبول کیا۔جب صبح ہوئی تو بریدہ نے کہا یار سول اللہ مدینہ میں آپ کا داخلہ ایک جھنڈے کے ساتھ ہونا چاہیے۔پھر اس نے اپنا عمامہ سر سے اتارا اور اسے اپنے نیزے پر باندھ دیا اور آپ کے آگے آگے چلنے لگا یہاں تک کہ مسلمان مدینہ میں داخل ہو گئے۔195 حضرت ابوایوب کے گھر میں قیام صحیح بخاری میں رسول کریم صلی الم کی مدینہ آمد کے متعلق حضرت انس بن مالک کی روایت اس طرح ہے کہ نبی کریم صلی علی کم مدینہ آئے اور مدینہ کے اوپر کے حصہ میں ایک قبیلہ میں جنہیں بنو عمر و بن عوف کہا جاتا تھا اترے۔نبی صلی علیکم ان میں چودہ راتیں ٹھہرے۔پھر بنو نجار کو بلا بھیجا۔وہ تلواریں پہنے ہوئے آئے اور یہ واقعہ مجھے ایسا یاد ہے گویا میں نبی صلی الیکم کو اب بھی اپنی سواری پر سوار دیکھ رہاہوں اور