اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 66
بدر جلد 2 66 حضرت ابو بکر صدیق صلی اللہ کل کو تلاش کرتے کرتے ام معبد کے خیمے تک بھی آن پہنچی اور یہ لوگ اپنی سواریوں سے اترتے ہی رسول اللہ صلی علیم کے بارے میں پوچھنے لگے۔ام معبد جو تھیں وہ کچھ بھانپ گئیں اور کہنے لگیں کہ تم ایسی بات پوچھ رہے ہو کہ میں نے تو کبھی نہیں سنی اور نہ ہی مجھے سمجھ آرہی ہے کہ تم لوگ کیا چاہتے ہو اور جب ان لوگوں نے اپنے سوال میں کچھ سختی کرنا چاہی تو اس جہاں دیدہ بہادر خاتون نے کہا کہ دیکھو! اگر تم ابھی مجھ سے دُور نہ ہوئے تو میں اپنے قبیلے والوں کو آواز دے کر بلالوں گی۔وہ اس خاتون کے مقام و مرتبہ کو جانتے تھے۔لہذ ا عافیت اسی میں جانی کہ واپس لوٹ جائیں۔8 178 رض حضرت زبیر بن العوالم کا سفر ہجرت میں ملنا رسول اللہ صلی الم ابھی راستے میں تھے کہ انہیں حضرت زبیر ملے جو مسلمانوں کے ایک قافلے کے ساتھ شام سے تجارت کر کے واپس آرہے تھے۔حضرت زبیر نے رسول اللہ صلی ال یکم اور حضرت ابو بکر ھو سفید کپڑے پہنائے۔179 اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں لکھا ہے کہ ”راستہ میں زبیر بن العوائم سے ملاقات ہو گئی جو شام سے تجارت کر کے مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے قافلے کے ساتھ مکہ کو واپس جارہے تھے۔زبیر نے ایک جوڑا سفید کپڑوں کا آنحضرت صلی الی یکم کو اور ایک حضرت ابو بکر کی نذر کیا اور کہا میں بھی مکہ سے ہو کر بہت جلد آپ سے مدینہ میں آملوں گا۔1804 پھر بخاری کی ایک روایت ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ راہ گزرتے ہوئے کئی دوسرے قافلے والے جو کہ حضرت ابو بکر کو ان کے اکثر تجارتی سفروں کی وجہ سے انہی جگہوں پر دیکھ چکے تھے پوچھتے کہ آپ کے ساتھ یہ کون ہے؟ تو آپ کہہ دیتے کہ یہ مجھے راستہ دکھانے والے ہیں۔هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ یہ شخص مجھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔لوگ سمجھتے یہ گائیڈ ہیں اور حضرت ابو بکر کی مرادراہ ہدایت سے ہوتی۔181 اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح لکھا ہے کہ چونکہ حضرت ابو بکر بوجہ تجارت پیشہ ہونے کے اس راستہ سے بار ہا آتے جاتے رہتے تھے اس لئے اکثر لوگ ان کو پہچانتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ کل کو نہیں پہچانتے تھے۔لہذا وہ ابو بکر سے پوچھتے تھے کہ یہ تمہارے آگے آگے کون ہے۔حضرت ابو بکر فرماتے۔هذَا يَهْدِينِي السَّبِيلَ۔یہ میرا ہادی ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ کوئی دلیل یعنی گائیڈ ہے جو راستہ دکھانے کے لئے حضرت ابو بکر نے ساتھ لے لیا ہے۔مگر حضرت ابو بکر کا مطلب کچھ اور ہو تا تھا۔182 قبا میں قیام منزلِ مقصود تک پہنچنے کے بارے میں لکھا ہے کہ آٹھ دن سفر کرتے ہوئے خدائی نصرتوں کے ساتھ آخر کار پیر کے دن آپ مدینہ کے راستے قبا پہنچ گئے۔حدیث میں ہے کہ پیر کے دن آپ پیدا