اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 42
صحاب بدر جلد 2 42 حضرت ابو بکر صدیق کے ذریعہ کس طرح لوگوں کے دلوں کو مغلوب کر لیتا ہے۔اللہ کی قسم ! اگر تم نے ایسا کیا تو تم لوگ امن میں نہیں رہو گے کہ وہ عرب کے کسی قبیلہ میں اترے اور اپنی باتوں سے ان پر غلبہ حاصل کرلے اور وہ لوگ اس کی پیروی کرنے لگیں۔پھر ان کے ساتھ مل کر تمہاری طرف پیش قدمی کریں اور تمہیں تمہارے ہی شہر میں روند ڈالیں اور تمہارے معاملات تمہارے ہاتھوں سے لے لیں اور پھر جیسا چاہے تم سے سلوک کریں۔لہذا اس کے علاوہ کوئی اور تجویز سوچو۔اس پر ابو جہل نے کہا کہ میری رائے تو یہ ہے که قریش کے ہر قبیلے سے ایک ایک نو عمر ، مضبوط اور حسب و نسب والا جو ان چنا جائے اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں تیز کاٹنے والی تلوار دے دی جائے پھر وہ لوگ اس یعنی محمد سلیم) کا قصد کریں اور ایک شخص کے حملہ کرنے کی طرح اس پر حملہ کیا جائے اور وہ اسے قتل کر دیں۔یوں ہمیں اس شخص سے راحت مل جائے گی۔اس طرح قتل کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس شخص کا خون سارے قبائل میں منقسم ہو جائے گا اور بنو عبد مناف سارے قبیلوں سے جنگ نہ کر سکیں گے۔لہذا دیت لینے پر راضی ہو جائیں گے اور ہم دیت ادا کر دیں گے۔اس پر بوڑھے مجدی نے کہا۔رائے ہے تو بس اس شخص کی، باقی سب فضول باتیں ہیں۔غرض اس رائے پر سب اتفاق کرتے ہوئے چلے گئے۔15 مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم اور حضرت ابو بکر کی مصاحبت دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ تم کو اس ساری صورت حال سے آگاہ فرما دیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے : وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ اَوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ المكرين قال :31) اور یاد کرو جب وہ لوگ جو کافر ہوئے تیرے متعلق سازشیں کر رہے تھے تاکہ تجھے ایک ہی جگہ پابند کر دیں یا تجھے قتل کر دیں یا تجھے وطن سے نکال دیں۔اور وہ مکر میں مصروف تھے اور اللہ بھی ان کے مکر کا توڑ کر رہا تھا اور اللہ مکر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔اور ساتھ ہی جبریل کے ذریعہ آنحضرت صلی ایم کو ہجرت کی اجازت دے دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ کفارِ مکہ نے آنحضرت ملا لی ایم کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ جل شانہ نے اپنے اس پاک نبی کو اس بد ارادے کی خبر دے دی اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم فرمایا اور پھر بفتح و نصرت واپس آنے کی بشارت دی۔بدھ کاروز اور دوپہر کا وقت اور سخت گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلا منجانب اللہ ظاہر ہوا۔117 116 حضرت ابو بکر کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہجرت کی اجازت ملنے پر آنحضرت صلی علیہ کی پوری احتیاط کے ساتھ حضرت ابو بکر کے گھر عین دو پہر کے وقت یعنی اس وقت تشریف لے گئے کہ جس وقت میں مکہ کے باشندے عموماً اپنے گھروں میں ہی رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی طرف آنا جانا نہیں ہوتا اور مزید احتیاط یہ بھی کی کہ شدید گرمی جو تھی چنانچہ اپنا چہرہ اور سر وغیرہ بھی کپڑے سے ڈھانپے رکھا۔جب آپ حضرت ابو بکر کے گھر کے قریب پہنچے تو کسی نے بتایا اور طبرانی اور فتح الباری کی روایت کے مطابق حضرت اسماء نے کہا کہ نبی اکرم صلی علیکم تشریف