اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 448

اصحاب بدر جلد 2 448 حضرت ابو بکر صدیق میں اور نہ موت کے بعد۔معد ودے چند ایام کی مفارقت کے بعد آپس میں مل گئے اور محبت کا تحفہ پیش کیا۔انتہائی تعجب کی بات یہ ہے کہ بقول ان (شیعہ حضرات) کے “ یعنی اعتراض کرنے والوں کے ”اللہ نے نبی کے مرقد کی تربت کو خاتم النبیین اور دو کافروں، غاصبوں اور خائنوں کے درمیان مشترک کر دیا۔اور اپنے نبی اور حبیب کو ان دونوں ( ابو بکر اور عمر کی ہمسائیگی کی اذیت سے نجات نہ دی۔بلکہ ان دونوں کو دنیا اور آخرت میں آپ کے اذیت رساں رفقاء بنا دیا اور (نعوذ باللہ) ان دونوں ناپاکوں سے آپ کو دُور نہ رکھا۔ہمارا رب ان کی بیان کر دہ باتوں سے پاک ہے۔“ جو یہ کہتے ہیں یہ غلط کہتے ہیں۔یہ ایسا نہیں ہے جیسا بیان کیا جاتا ہے بلکہ اللہ نے ان دونوں پاکبازوں کو “ یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ ہو ان دونوں پاکبازوں کو پاکبازوں کے امام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملا دیا۔یقیناً اس میں اہل بصیرت کے لئے نشانات ہیں۔“ 1040<< پھر آپ متعصب شیعوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”اگر متعصب شیعوں سے یہ پوچھا جائے کہ مخالف منکروں کی جماعت سے نکل کر بالغ مردوں میں سے اسلام لانے والا پہلا شخص کون تھا ؟ تو انہیں یہ کہنے کے سوا چارہ نہیں کہ وہ حضرت ابو بکر تھے۔پھر جب یہ پوچھا جائے کہ وہ کون تھا جس نے سب سے پہلے حضرت خاتم النبیین کے ساتھ ہجرت کی اور تمام تعلقات کو پس پشت ڈالا اور وہاں چلے گئے جہاں حضور گئے تھے تو ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا کہ وہ کہیں کہ وہ حضرت ابو بکر تھے ! پھر جب یہ پوچھا جائے کہ بفرض محال غاصب ہی سہی تاہم خلیفہ بنائے جانے والوں میں سے پہلا کون تھا ؟ تو انہیں یہ کہے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا کہ ابو بکر۔پھر جب یہ پوچھا جائے کہ ملک ملک میں اشاعت کے لئے قرآن کو جمع کرنے والا کون تھا ؟ تو لا محالہ کہیں گے کہ وہ (حضرت) ابو بکر تھے۔پھر جب یہ پوچھا جائے کہ خیر المرسلین اور سید المعصومین کے پہلو میں کون دفن ہوئے تو یہ کہے بغیر انہیں کوئی چارہ نہ ہو گا کہ وہ ابو بکر اور عمر نہیں۔تو پھر کتنے تعجب کی بات ہے کہ (معاذ اللہ) ہر فضیلت کافروں اور منافقوں کو دے دی گئی اور اسلام کی تمام تر خیر و برکت دشمنوں کے ہاتھوں سے ظاہر ہوئی۔کیا کوئی مومن یہ خیال کر سکتا ہے کہ وہ شخص جو اسلام کے لئے خشت اول تھا وہ کافر اور لیم تھا؟ پھر وہ کہ جس نے فخر المرسلین کے ساتھ سب سے پہلے ہجرت کی وہ بے ایمان اور مرتد تھا؟ اس طرح تو ہر فضیلت کافروں کو حاصل ہو گئی۔یہاں تک کہ سید الابرار کی قبر کی ہمسائیگی بھی 104141 شیخین (یعنی ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) جیسا میں نے کسی کو نہ پایا پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”سچ تو یہ ہے کہ (ابو بکر صدیق اور (عمر) فاروقی دونوں اکابر صحابہ میں سے تھے۔ان دونوں نے ادا ئیگی حقوق میں کبھی کو تاہی نہیں کی۔انہوں نے تقویٰ کو اپنی راہ اور عدل کو اپنا مقصود بنالیا تھا۔وہ حالات کا گہرا جائزہ لیتے اور اسرار کی کنہ تک پہنچ جاتے تھے۔دنیا کی خواہشات کا حصول کبھی بھی ان کا مقصود نہ تھا۔انہوں نے اپنے نفوس کو اللہ کی اطاعت میں لگائے