اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 442 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 442

اصحاب بدر جلد 2 442 حضرت ابو بکر صدیق ملتی۔ان کی طبائع اتنی سادہ تھیں، ان کی ملاقاتیں اتنی سادہ تھیں، ان میں تواضع اس قدر پایا جاتا تھا کہ ظاہری طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ بادشاہ ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ میری حکومت ہے، میں بادشاہ ہوں۔ان میں سے کوئی شخص بھی کبھی اس بات پر آمادہ نہیں ہوا کہ وہ اپنی بادشاہت کا اظہار کرے اور نہ ہی وہ اس بات کی کبھی خواہش کرتے تھے۔در حقیقت جو خد اتعالیٰ کے ہو جاتے ہیں دنیا خود ان کے قدموں پر آگرتی ہے۔لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ بادشاہتوں سے انہیں مدد ملے گی لیکن جو خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں بادشاہتیں سمجھتی ہیں کہ انہیں ان کی غلامی سے عزت ملے گی۔0 1030❝❝ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بادشاہ مقرر ہوئے تھے پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ”دیکھو! ابو بکر بادشاہ بن گئے۔لیکن ان کا باپ یہ سمجھتا تھا کہ ان کا بادشاہ ہونا ناممکن ہے۔کیونکہ انہیں بادشاہت خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی تھی۔اس کے مقابلہ میں تیمور بھی ایک بڑا بادشاہ تھا لیکن وہ اپنی دنیوی تدابیر کی وجہ سے بادشاہ ہوا تھا۔نپولین بھی بڑا بادشاہ تھا لیکن وہ اپنی محنت اور دنیوی تدابیر سے بادشاہ بن گیا تھا۔نادر شاہ بھی بڑا بادشاہ تھا لیکن اسے بھی بادشاہت اپنی ذاتی محنت اور کوشش اور دنیوی تدابیر سے ملی تھی۔پس بادشاہت سب کو ملی۔لیکن ہم کہیں گے تیمور کو بادشاہت آدمیوں کے ذریعہ ملی۔لیکن ابو بکر کو بادشاہت خدا تعالیٰ سے ملی۔کہیں گے نپولین کو بادشاہت دنیوی تدابیر سے ملی تھی لیکن حضرت عمر کو بادشاہت خدا تعالیٰ سے ملی۔ہم کہیں گے چنگیز خان کو بادشاہت دنیوی ذرائع سے ملی تھی لیکن حضرت عثمان کو بادشاہت خدا تعالیٰ نے دی۔ہم کہیں گے نادر شاہ دنیوی تدابیر سے بادشاہ بنا تھا لیکن حضرت علی کو بادشاہت خدا تعالیٰ نے دی۔پس بادشاہت سب کو ملی، دنیوی بادشاہوں کا بھی دبدبہ تھا، رُعب تھا۔اُن کا بھی قانون چلتا تھا اور خلفاء کا بھی۔بلکہ ان کا قانون ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے زیادہ چلتا تھا۔لیکن یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بادشاہ مقرر ہوئے تھے “ یعنی یہ چاروں ” اور وہ آدمیوں کے ذریعہ بادشاہ ہوئے تھے۔“ جو دنیا دار بادشاہ تھے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی اہم کام سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھتا بشیر اللہ کی برکات کا آپ یہاں ذکر فرمارہے ہیں ”اسے برکت نہیں مل سکتی۔تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اپنے مقصد میں ناکام رہتا ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے وہ مقصد خدا تعالیٰ سے نہیں مل سکتا۔جو بادشاہت خدا تعالیٰ کے ذریعہ ملنے والی تھی وہ حضرت ابو بکر عمر، عثمان اور علی کو ملی۔ان کے سوا دوسرے لوگوں کو نہیں ملی۔دوسروں کو جو بادشاہت ملی وہ شیطان سے ملی یا انسانوں سے ملی۔ورنہ لین، سٹائن اور مالنکوف نے بشیر اللہ نہیں پڑھی لیکن بادشاہت ان کو بھی ملی۔روز ویلٹ، ٹرومین اور آئزن ہاور نے بھی بسم اللہ نہیں پڑھی لیکن بادشاہت ان کو بھی ملی۔وہ