اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 405
اصحاب بدر جلد 2 405 حضرت ابو بکر صدیق اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان تک پہنچی ہوئی تھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور اس کے ذریعہ اوپر چلے گئے۔اس کے بعد ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اس کے ذریعہ اوپر چلا گیا۔اس کے بعد ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔پھر اس کے بعد ایک اور شخص نے اس رسی کو پکڑا اور وہ ٹوٹ گئی۔پھر اس کے لیے جوڑ دی گئی اور وہ اس کے ذریعہ اوپر چڑھ گیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس کی تعبیر کرنے دیجیے۔اجازت ہو تو میں تعبیر کروں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی تعبیر کرو تو حضرت ابو بکر نے کہا کہ سایہ کرنے والا بادل تو اسلام ہے اور جو شہر اور گھی اس میں سے ٹپک رہا تھا وہ قرآن ہے۔اس کی شیرینی اور اس کی لطافت اور لوگ اس سے جو شہد اور گھی لے رہے ہیں اس سے مراد قرآن حاصل کرنے والا ہے۔یعنی قرآن کریم کا علم حاصل کرنے والا زیادہ یا تھوڑا۔اور وہ رسی جو آسمان تک پہنچی ہوئی ہے تو وہ حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لیا اور اس کے ذریعہ آپ بلند ہو گئے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کو ایک اور آدمی لے گا اور اس کے ذریعہ بلند ہو گا۔پھر ایک اور ، وہ بھی اس کے ذریعہ بلند ہو گا۔پھر ایک اور ، اور وہ منقطع ہو جائے گی۔پھر اس کے لیے جوڑی جائے گی اور وہ اس کے ذریعہ بلند ہو گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کچھ صحیح کہا اور کچھ غلطی کی ہے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یار سول اللہ ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دیتا ہوں آپ مجھے ضرور بتائیے جو میں نے ٹھیک کہا اور جو میں نے غلطی کی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو بکر قسم نہ دو۔951 یعنی آپ نہیں چاہتے تھے کہ جو صحیح تعبیر ہے وہ اس وقت واضح طور پر بتائی جائے۔اس لیے آپ نے فرمایا کہ قسم نہ دو۔بس ٹھیک ہے جتنی تم نے کر دی ہے وہی کافی ہے۔ابن شہاب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھا۔اس خواب کو حضرت ابو بکر کے سامنے بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ جیسے میں اور تم ایک زینے پر چڑھے ہوں اور میں تم سے اڑھائی زینے آگے بڑھ گیا ہوں۔انہوں نے کہا خیر ہے یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ آپ کو اس وقت تک باقی رکھے گا کہ آپ اپنی آنکھوں سے وہ چیز دیکھ لیں جو آپ کو مسرور کرے اور خوش کرے اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے۔آپ نے ان کے سامنے اسی طرح تین مرتبہ دہرایا۔تیسری مرتبہ فرمایا کہ اے ابو بکر ! میں نے خواب دیکھا کہ جیسے میں اور تم ایک زینے پر چڑھے۔میں تم سے اڑھائی سیڑھی آگے بڑھ گیا۔انہوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ آپ کو اپنی رحمت اور مغفرت کی طرف اٹھالے گا اور میں آپ کے بعد اڑھائی سال تک زندہ رہوں گا۔952 حضرت ابو بکر نے اس کی یہ تشریح کی اور اسی طرح ہوا۔